پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ظریف کا تبادلہ خیال
خلیج فارس کے بعض عرب ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے مختلف ملکوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے- واضح رہے کہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، اور مصر نے پانچ جون کو قطر کے ساتھ اپنے روابط منقطع کرلئے ہیں-
سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کے علل و اسباب کا جائزہ لینے سے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیوں سعودی عرب نے اس وقت قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا اقدام کیا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کو، عالمی سطح پر آگے بڑھائے ، اور یہ کہ اس کشیدگی کا فائدہ کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں چند مفروضوں کو مدنظر قرار دیا جاسکتا ہے-
پہلا مفروضہ یہ ہے کہ قطرکسی بھی وجہ سے اس وقت اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ سعودی عرب کی کشیدگی پھیلانے کی کوشش اور اس ملک نے جنگ یمن میں جو جنون آمیز رویہ اختیار کیا ہوا ہے اورایران کے خلاف جو دشمنانہ اقدامات کر رہا ہے، یہ سب غیر عاقلانہ اقدام ہے- اسی سب سے قطر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ مسئلے کا حقیقت پسندی سے جائزہ لے اور اسی بنیاد پر اس نے سعودی عرب کی پالیسیوں پر کھل کر اور سخت لہجے میں نکتہ چینی کی ہے-
لیکن دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ سعودی عرب کو علاقے میں پراکسی وارکی قیادت اورعلاقائی اتحاد میں داخل ہونےکے نتائج سے شدید تشویش لاحق ہے، اسی سبب سے وہ کوشش میں ہے کہ علاقے میں نئے حالات پیدا کرکے علاقے کے باہر کے ملکوں کو بھی اس کشیدگی میں شامل کرلے تاکہ خطے میں ایک نئے پروپگنڈے کے ذریعے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے -
لیکن قطر اس بات پر تاکید کر رہا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کا ایک ستون اعتدال ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ رویہ ، تنازعات کے حل میں موثر ہے اور یہی چیز علاقے میں استحکام کا سبب ہے- البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ دوحہ، علاقے کی تمام موجودہ پالیسیوں کا مخالف ہے- جیسا کہ قطر نے شام کے مسئلے میں سعودی عرب کا ساتھ دیا ہے لیکن دوسرے مسائل میں وہ سعودی عرب اور مصر سے اتفاق رائے نہیں رکھتا -
لیکن تیسرا مفروضہ علاقے میں امریکہ کی نئی منصوبہ بندی ہے کہ جسے ٹرمپ کےدورہ سعودی عرب کے بعد تقویت ملی ہے- ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ اس مرحلے میں امریکہ کی کوشش ہے کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں کے لئے وہ جو کردار ادا کر رہا ہے، اس کا دقت سے جائزہ لے-امریکہ کی مرکزی انٹیلی جنس کے سابق سینئر ایگزکٹیو امیل نخلہ نے اسی سلسلے میں برکلے کے تحقیقاتی مرکز کی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں تحریرکیا ہے کہ ٹرمپ نے عرب نیٹو کے دائرے میں عرب افواج کو یکجا کرنے کی کوشش انجام دی ہے اور انہوں نے اس طرح کی کونسل کے قیام کے اقدام کو بے فائدہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ کونسل ایران کے خلاف خلیج فارس کے عرب ملکوں کی امنگوں کو پورا کرنے لئے تشکیل دی گئی ہے اور عرب ملکوں میں خاندانی آمریت کے نظاموں کو تحفظ دینے کے لئے ان ملکوں کے عوام کی آزادی کی قیمت پر اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے-
اس کہنہ مشق انٹلی جنس افسر نے اپنے ملک کے صدر سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں احمقوں کے راستے پر نہ چلیں - نخلہ نے لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو اس قدر احمقانہ اقدام نہیں کرنا چاہئے کہ صرف ہتھیاروں کے بڑے بڑے معاملات کی خاطر ، علاقے میں اس طرح کے اتحاد کے تشکیل کی حمایت کرے- بہت سے مبصرین نے سعودی عرب کی مشرق وسطی پالیسی سے مجموعی طور پر جو نتیجہ اخذ کیا ہے یہ ہے کہ وہابیت ہی انتہا پسندی کا سرچشمہ ہے اور ریاض اس فرقے کی مالی ضروریات پورا کر رہا ہے- اٹلی کے اخبار ایل مانیفسٹو نے بھی اپنے ایک تجزیے میں ، کہ جس کا عنوان ہے " ایران مخالف عرب محاذ کا زوال کہ جس کے ٹرمپ اور نتنیاہو بہت زیادہ خواہاں ہیں" لکھا ہے ٹرمپ نے ابھی تک انتخابی مہم کے دوران کئے گئے اپنے خطرناک انتخابی وعدوں کوہی پورا کیا ہے کہ جن میں سے ایک، تہران کے خلاف سفارتی اور لفظی یلغار ہے-
اس خطرناک کھیل میں ، علاقے میں فتنہ و جنگ کے اصلی مرکز کی حیثیت سے اسرائیل اس امید میں ہے کہ ایران مخالف عرب محاذ کا سناریو اور تہران کے خلاف واشنگٹن کا نیا رویہ ، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اتنے سخت رویے پر منتج ہوجائے کہ آخرکار اسرائیل کا ، ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے- ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب، درحقیقت اہم محرکات کا حامل تھا کہ جس کے درپردہ عوامل کا موجودہ صورتحال میں جائزہ لیا جا سکتا ہے - وہ چیز جو مسلم ہے یہ ہے کہ علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ایسے حالات میں ہو رہا ہے کہ افغانستان ، عراق شام اور یمن کی جنگوں کے باقیماندہ بحران اور اسی طرح دہشت گردی و انتہاپسندی کے نتائج نیز صیہونی حکومت کے توسط سے فلسطین پر جاری قبضے نے عالمی سطح پر امن و سلامتی کو خطرے سے دوچار کردیا ہے - عرب ملکوں کے تنازعے کے حل میں مدد کے لئے ایران کی جانب سے تبادلۂ خیال بھی اس حقیقت کے ادراک کا نتیجہ ہے-