ایک اہم خط
وزیر خارجہ کا اسلامی ملکوں سے سوال: کیا آپ نے جرم پر سکوت کا انتخاب کیا ہے؟
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے مسلمین عالم کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے، امریکااور صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت اور امت اسلامیہ کے دشمنوں کے مقابلے میں مسلم ملکوں اور اقوام کے درمیان اتحاد کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے
سحرنیوز/ایران: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دنیا کے سبھی مسلمانوں کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ عید سبھی مومنین کے لئے، نفس اور خواہشات نفسانی پر غلبہ ایمان کی تجلی ہے۔
ایران کی سربلند قوم ایسی حالت میں اس عظیم عید الہی کا استقبال کررہی ہے کہ اس نے رمضان المبارک کا بڑا حصہ اپنی سرزمین پر امریکا اور صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے سائے میں گزارا ہے۔
اس بزدلانہ جارحیت میں ملت ایران کے دینی اور سیاسی رہبر اور دیگر ممتاز سیاسی لیڈران اور اعلی فوجی عہدیداران دہشت گردی کے ساتھ شہید کردیئے گئے۔
اسی کے ساتھ شہر میناب کے گرلس اسکول پر بمباری نے جس کی خبرعالمی ابلاغیاتی ذرائع نے نشر کی، دنیا کے سبھی حریت پسندوں کے لئے بہت المناک تھی۔ علاج معالجے کے مراکز، رفاہی خدمات کے اداروں، بنیادی شہری تنصیبات، اسپورٹس کے مراکز اور رہائشی علاقوں پر حملے نیز عورتوں اور بچوں کا قتل عام، یہ سب، ریاستی دہشت گردی، جنگی جرائم، بنیادی ترین انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جو چیز ان جرائم کی تلخی بڑھادیتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ سبھی حملے پڑوسی مسلمان ملکوں کی میزبانی میں کئے گئے ہیں۔
اس حساس وقت میں مسلمان ملکوں کے لیڈران اور سربراہوں سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کھلے جرائم کے سلسلے میں ان کا موقف کیا ہے؟ کیا وہ ان جارحیتوں پر، جارحین کی ہمراہی کا راستہ اختیا کررہے ہیں؟
مسلمان بہنوں اور بھائیوں کے خلاف جرائم پر سکوت کا انتخاب کررہے ہیں؟ یا اپنے ہم مسلک لوگوں اور انسانوں کے تعلق سے مسلمانوں کے فرائض کے بارے میں دین مقدس اسلام کی تعلیمات پر عمل کررہے ہیں؟
بیشک، اس انتخاب پر تاریخ خاموش تماشائی نہیں رہے گی اور عالم اسلامی کی عام رائے عامہ، بہت ہی دقت اور حساسیت کے ساتھ اپنے رہنماؤں کے موقف اور طرزعمل کا جائزہ لے گی۔
آج سبھی کے سامنے اسلامی اور انسانی اقدار اور اصولوں کی پابندی کے دعوؤں کی صداقت کا عظیم امتحان ہے: "لِیَبْلُوَکُمْ أیُّکُمْ أحْسَنُ عَمَلًا۔"
بیشک جارحین کا ساتھ دینا، غیر اسلامی اور سیرت رسول کے منافی ہے؛ کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ " تَری المؤمنینَ فیتَراحُمھم، وَ تَوادِّھم ، و تَعاطُفھم ، کَمَثَلِ الجَسَدِ، اِذَا اشتَکی عُضوٌ تَداعی لھم سائِرُ جَسَدِه بِالسَھِر وَ الحُمَّی۔"
اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز کے بعد بارہا اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ خود کو صرف ملت کے ایران کے دفاع کا ہی نہیں بلکہ امت اسلامیہ کی حمایت کا بھی پابند سمجھتا ہے اور آج ایران سے صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی دشمنوں کی وجہ یہی ہے اورانھوں نے ھمیشہ ایران کو اپنی جارحیت اور توسیع پسندی کے مقابلے میں عالم اسلام کے ایک قلعے کے عنوان سے جھکانےکی کوشش کی ہے جو ایران اسلامی کی طاقت واستقامت اور مومن ایرانی عوام نیز استقامتی محاذ کی حمایت کی وجہ سے ناکام رہی ہے۔
ایران نے عقل اور بنیادی اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اپنے سبھی پڑوسیوں اور مسلمان بھائیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور ان کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ اس وقت ان ملکوں میں جارحین کے اڈے اور مفادات صرف اس لئے ہمارے دفاعی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں کہ ان مراکز کوہمارے خلاف جارحیت کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران اچھی طرح ثابت ہوگيا کہ امریکا کے لئے، ہمارے پڑوسیوں کی سلامتی نہیں بلکہ صرف صیہونی حکومت کے مفادات اہمیت رکھتے ہیں اور امریکا ہمارے پڑوسیوں کی سلامتی فراہم کرنے کی توانائی نہیں رکھتا بلکہ ان سے ناجائز فائدہ اٹھاکر ان کی سلامتی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
بنابریں، مناسب اور ضروری ہے کہ مسلمان ملکوں کے حکام اور لیڈران، اپنے باخبر اور سمجھدار عوام کے ساتھ امریکا اور صیہونی حکومت کی منظم دہشت گردی، جارحیت اور جرم سے آشکارا اور محکم بیزاری کا صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی اعلان کریں۔
امریکا اور صیہونی حکومت نے مقبوضہ فلسطین، بالخصوص غزہ اور لبنان میں جوجارحیت اور جرائم کئے ہیں، اس وقت انہیں جرائم کا ایران میں ارتکاب کرہے ہیں۔ اگرچہ ایران کے محکم اور دردناک جواب سے روبرو ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ ان کاہدف پورا علاقہ اور عالم اسلام ہے اور یہ خیال سادہ لوحی ہے کہ ان کے جرائم پر خاموشی یا ان کا ساتھ دینا، مستقبل کی سلامتی کا ضامن ہے۔
اس درمیان حق ہمسائگی اور گہرے دینی تعلقات کا تقاضا ہے کہ اسلامی ملکوں کے رہنما، اپنی گفتاراور کردار سے ظلم وجارحیت میں ہر قسم کی ہمراہی کے شبہے سے خود کو مبرا کریں اور مدافعین حق وانصاف کی صف میں کھڑے ہوں۔ جیسا کہ رسول اکرم (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا ہے کہ "المُسلِم مَن سَلِم المُسلِمُون مِن لِسانہ و یَدہ۔"
آخر میں پوری اسلامی دنیا کے سبھی مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی عبادات اور طاعت الہی کی قبولیت کی آرزو کے ساتھ ایک بار پھر عیدالفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں باطل محاذ کے مقابلے میں مجاہدت اور پائیداری کی طاقت وتوانائی پر خدا وند عالم کا شکرگزار ہوں اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ مومنین کے دلوں کو ایک دوسرے سے نزدیک اور دشمنان امت اسلامیہ کے مقابلے میں ان کے اتحاد کو محکم فرما ئے۔
سید عباس عراقچی
وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel