کشمیرمیں مکمل ہڑتال، حالات کشیدہ
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کی جا رہی ہے۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیرمیں آج مکمل ہڑتال ہے اور تمام کاروباری مراکز، دکانیں اور اسکول بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔
حریت کانفرنس کی جانب سے شوپیاں میں ہلاکتوں کے خلاف آج پیر کے روز ہڑتال کی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے سرینگر کے7 پولیس تھانوں کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کل عسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپ میں ہلاکتوں کے بعد مظاہرین نے فائر سروس کی 2 گاڑیاں نذر آتش کردیں۔ مظاہرین اور فورسز میں تصادم آرائی میں تقریبا 125افراد زخمی ہوئے جن میں 37 کو سرینگر منتقل کیا گیا جن میں سے 20 کو گولیاں لگیں تھی، جبکہ 21 پیلٹ گن کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ صرف شوپیان ضلع اسپتال میں ہی 60 زخمیوں کو لایا گیا۔ مسلح جھڑپ شروع ہوتے ہی جنوبی کشمیر میں صورتحال خراب ہوئی اور کئی مقامات پر مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں شروع ہوئیں، جبکہ انٹرنیٹ بدستور معطل رکھا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے شام کے وقت، 5 عسکریت پسندوں اور شہریوں کی لاشیں انکے لواحقین کے سپرد کردیں۔
نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر سے عسکریت بنے محمد رفیع بٹ کی جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاکت کو المناک قرار دیا ۔