خلیج فارس کی سلامتی بیرونی طاقتوں کی بے دخلی سے ممکن ہوگی
قومی سلامتی اور امور خارجہ کے پارلیمانی کمیشن کے سربراہ کہا ہے کہ بیرونی طاقتوں کو خطے سے نکال کر خلیج فارس کی سلامتی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
سحرنیوز/ایران: ابراہیم عزیزی نے یہ بات ہفتے کے روز ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد کے ہمراہ ایران کے اسٹریٹیجک جزیرے خارگ کے دورے کے موقع پر ارنا کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
قومی سلامتی اور خارجہ امور کے پارلیمانی کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ جزیرہ خارگ اقتصادی لحاظ سے منفر پوزیشن کا حامل ہے اور ملکی تیل کی صنعت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے جزیرہ خارگ کو ایران کی تیل کی صنعت اور مزاحمتی طاقت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی طاقتوں کو خطے سے بے دخل کرکے ہی خلیج فارس کی سلامتی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ڈرا دھمکا کر اس علاقے میں کام کرنے والے صنعتکاروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن اس کی یہ آرزو خاک میں مل گئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے دھمکی آمیز اقدامات کے باوجود جزیرہ خارگ میں نہ صرف یہ کہ اقتصادی سرگرمیوں میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا بلکہ تیل ذخیر کرنے، جہازوں میں لوڈ کرنے اور فروخت کرنے کی گنجائش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel