Jul ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۸:۳۳ Asia/Tehran
  • بیرونی مداخلت خطے کی بدامنی کی اصل وجہ ہے: ایرانی وزیرداخلہ

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیرونی مداخلت کو خطے کی بدامنی کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔

منگل کو مشہد مقدس میں ایران و افغانستان کے سرحدی صوبوں کے گورنروں کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعاون کے ذریعے سیکورٹی چیلنجوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ ، عالم اسلام خاص طور سے مشرق وسطی کو اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے وہ بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے بعض دشمن ملکوں کی جانب سے خطے پربالادستی قائم کرنے کی کوششوں کے تحت جاری فوجی مداخلت اور علاقے کے قدرتی ذخائر اور گنجائشوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے نتیجے میں عالم اسلام کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایران کے وزیرداخلہ نے بعض ملکوں کی جانب سے دنیا میں اسلام فوبیا پھیلانے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اور ثقافتی اشتراکات اور ہمسائیگی کے باعث ایران اور افغانستان کی اقوام کے درمیان انتہائی قربت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قوموں کو امن کی کوششوں میں اور خطے کی قوموں کی ترقی کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

رحمانی فضلی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ خطے کے ملکوں کے معاملات میں بیرونی طاقتوں کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے بیرونی طاقتوں پرزوردیا کہ وہ دیگر ملکوں کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا اتنا ہی احترام کریں جتنا وہ خود اپنے لیے قائل ہیں۔

وزیر داخلہ نے منشیات کی اسمگلنگ کو ایران اور افغانستان کی اہم مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچاس سے ساٹھ ملین ڈالر کی رقم منشیات کی اسمگلنگ کے نتیجے میں دنیا میں گردش کررہی ہے اور اس کا اصل منافع مغربی ملکوں کو ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران کے صوبوں خراسان رضوی، خراسان جنوبی اور سیستان بلوچستان اور افغانستان کے صوبوں ہرات ، فراہ اور نیمروز کے گورنروں کا دو روزہ اجلاس مشہد مقدس میں ختم ہوگیا ہے۔ اس اجلاس میں دونوں ملکوں کے اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کی راہوں کا جائزہ لیا گیا۔

ٹیگس