گروپ پانچ جمع ایک، ایٹمی معاہدے کی پاسداری کرے: ڈاکٹر روحانی
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک میں شامل تمام ملکوں کو چاہئے کہ وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے نتائج کا تحفظ کریں-
صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے روز تہران میں مشرق وسطی کے امور میں روسی صدر کے خصوصی نمائندے " لاورنتیف " کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایٹمی سمجھوتہ، سات ملکوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو عالمی امن و سلامتی کے دائرے میں انجام پایا ہے، اس لئے اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ ایک ملک اپنی مرضی کے مطابق سمجھوتے کو کمزور کرنے کا کوئی اقدام انجام کرے-
ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا پابند رہا ہے اور رہے گا اور ایٹمی معاہدے کی پائیداری کے لئے، گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ مکمل طور پر اپنے وعدوں پر عمل کریں-
صدرمملکت نے اسی طرح علاقائی استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ایران اور روس کے درمیان باہمی تعاون اور ہم فکری جاری رہنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دو طرفہ مسائل میں دونوں ملکوں کا باہمی تعاون، دونوں قوموں کے فائدے میں اور علاقے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہو گا-
مشرق وسطی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے نمائندے لاورنتیف نے بھی اس ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پوتن، ایران اورروس کی قوموں کے درمیان پائے جانے والے اعتماد کے بہت زیادہ قدرداں ہیں، علاقائی اور عالمی مسائل میں تہران اور ماسکو کے باہمی تعاون کی تقویت پر تاکید کی-
انہوں نے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں ماسکو کا موقف ٹھوس اور مستحکم ہے اور اس کو کمزور کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے-