اب ہر میدان میں عزائم کی جنگ ہے، ڈاکٹر روحانی
صدر مملکت نے کہا ہےکہ ایمان، استقامت اور عوامی اتحاد سے بڑھکر کوئی ہتھیار نہیں ہوتا اور اب مختلف میدانوں میں عزائم کی جنگ ہوتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز ایران کے شمال مشرقی شہر مشہدالمقدس میں عالم اسلام کے شہداء اور یوم شہید کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ مقدس دفاع کے آٹھ برسوں میں ایرانی عوام نے اپنے عزم و ارادے سے کامیابی حاصل کی جیساکہ حزب اللہ لبنان نے بھی عزم و ارادے کی جنگ میں صیہونی حکومت کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔
انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے مومن جوانوں نے تینتیس روزہ جنگ میں ہتھیاروں سے لیس ہوئے بغیر ہی، ظالم و و غاصب اور بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا تاکہ اس غاصب حکومت کی ظاہری اور جھوٹی طاقت کا بھرم توڑا جا سکے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ حزب اللہ کی کامیابی، فوجی نہیں بلکہ عزم و ارادے کی کامیابی تھی اور عزم و ارادے کی جنگ میں عراقی قوم نے بھی دہشت گردوں کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
انھوں نے عراق کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد، ارادوں کی جنگ میں عراقی قوم سے شکست کھا چکے ہیں اور عراق کے تمام علاقے جلد ہی دہشت گردوں کے وجود سے پاک ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے علاقے کے بعض ملکوں کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید قسم کے فوجی ہتھیار اور جنگی ساز و سامان کی خریداری، کامیابی کی وجہ نہیں بنتی اس لئے کہ یمن کے غریب عوام نے اپنے قوی ایمان اور پختہ عزم و ارادے کی بدولت جارحین کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ جو چیز امریکہ، غاصب صیہونی حکومت اور اس کے آلہ کاروں کے مقابلے میں ایران کو کامیاب بناتی ہے وہ صرف اسلحہ نہیں بلکہ عوام کا ایمان، عزم و ارادہ، اتحاد اور ان کی استقامت ہے۔
ایران کے صدر نے گذشتہ اڑتیس برسوں کے دوران دشمنوں کے مختلف قسم کے دباؤ کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کےساتھ کہا کہ ایران نے سخت حالات میں تیزی کے ساتھ اقتصادی ترقی کے علاوہ، افراط زر کی شرح میں کمی کی اور قومی کرنسی کی قدر کا تحفظ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کے شمال مشرقی شہر مشہدالمقدس میں عالم اسلام کے شہداء اور یوم شہید کانفرنس، عراق، لبنان،شام، پاکستان، تیونس اور بوسنیا ہرزہ گووینہ کے تیس مہمانوں کی شرکت اور صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی تقریر سے شروع ہوئی۔
اس کانفرنس میں عالم اسلام کے شہداء کے اہل خانہ کے علاوہ ایران کے مختلف علاقوں کے شہدا کے تین سو اور صوبے خراسان رضوی کے شہدا کے چار سو لواحقین بھی شریک ہوئے۔
اس کانفرنس میں ایران کے عظیم شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ حزب اللہ لبنان کے سابق سربراہ شہید سید عباس موسوی، تحریک مزاحمت کے عظیم کمانڈر شہید عماد مغنیہ، شہیدوں کی سات ماؤں اور بوسنیہ ہرزہ گووینہ کے ایک شہید کے والد کی قدردانی کی گئی۔
اسی طرح اس کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی موجودگی میں شہدائے ایران کے بارے میں کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔