Mar ۳۰, ۲۰۲۶ ۱۴:۱۳ Asia/Tehran
  • ایران کی وزارت خارجہ کا بیان: امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تردید، خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ براہ راست کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب تک امریکہ کی جانب سے صرف ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی خواہش اور درخواست کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

سحرنیوز/ایران:  وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران کا موقف واضح ہے اور جب بھی کوئی پیش رفت ہوگی تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے آج 29 مارچ 2026 کو ہفتہ وار پریس فریفنگ میں کہا کہ ایران نے پچھلے 31 دنوں میں امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بہادری سے دفاع کیا ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے گھر، شناخت اور ثقافت کے دفاع کے لیے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف جارحیت اور جنگی جرائم کی شدید مذمت کی۔
ترجمان وزارت خارجہ نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والے بدترین بین الاقوامی جرائم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے بالخصوص پر ہونے والے ان حملوں کا ذکر کیا جن میں اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ساتھ تہران میں ایرانی رہنماؤں اور کمانڈروں پر دہشت گردانہ حملوں میں بچوں اور طالب علموں کو نشانہ بنانا شامل تھا۔

انہوں نے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ایران کے دفاع کے عزم کو دہرایا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے حقوق بشر اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی پر افسوس کا اظہار کیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا سب سے بڑا شکار انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے اب تک کے 80 سالہ دور میں ایسی منظم اور شدید نوعیت کے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور ممکنہ نسل کشی کی مثال نہیں ملتی۔ ان حملوں میں نہ صرف جنگی اہداف کو نشانہ بنایا گیا بلکہ بے گناہ شہریوں کی شہادتیں بھی ہوئیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے یونیورسٹیوں، ثقافتی مراکز اور عالمی ورثے کی حامل اہم عمارتوں پر ہونے والے حملوں کو بھی جنگی جرم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اصفہان، تہران اور دیگر شہروں میں ثقافتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، اسپتالوں، ہلال احمر کی عمارتوں اور رہائشی علاقوں پر حملے بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو معمول پر رکھنے کے لیے ضروری انرجی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

ان حملوں کے نتیجے میں تہران اور کرج کے کچھ علاقوں میں بجلی کی بندش ہوئی۔ تاہم، انہوں نے وزارت توانائی کے انجینئرز اور کارکنوں کی روز و شب کی محنت کو سراہا جنہوں نے ان حالات میں بھی ملک کو روشن رکھنے کی کوشش کی۔

انہوں نے زور دیا کہ دشمن ان حملوں کے ذریعے عوام کی معمول کی زندگی کو درہم برہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس