امریکی حکام خود کو عالمی تھانیدار سمجھ بیٹھے ہیں، صدر حسن روحانی
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے شام کے الشعیرات ایئر بیس پر امریکا کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام خود کو عالمی تھانیدار اور منصف سمجھنے لگے ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کو تہران میں استقامتی معیشت اور دیہی ترقی کے زیرعنوان منعقدہ ایک کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لئے غیرجانبدار ملکوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔
صدر ڈاکٹر روحانی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ خود اقوام متحدہ کے کہنے کے مطابق شامی حکومت کے پاس کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں کہا کہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لئے تشکیل پانے والی تحقیقاتی کمیٹی میں امریکا کی کوئی نمائندگی یا سرپرستی نہ ہو اور یہ کمیٹی اس بات کا پتہ لگائے کہ ادلب میں استعمال کئے گئے کیمیائی ہتھیار کہاں سے آئے اور انہیں کون شام کےاندر لے کر آیا۔
انہوں نے یہ سوال کیا کہ ایک آزاد اور خود مختار ملک پر امریکا نے تحقیقات کے بغیر کیوں حملہ کیا ؟ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ شام میں سرگرم سبھی دہشت گردوں نے شام پر کئے گئے امریکا کے جارحانہ ، شرمناک اور ظالمانہ حملے پر جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دیئے گئے بیان کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکام اپنے قول میں سچے ہیں تو انہوں نے کیوں اپنے پہلے اقدام کے طور پر دہشت گردوں کی مدد کی اور شامی فوج کے خلاف حملہ کیا ؟
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے بھی شام پر غیرقانونی امریکی جارحیت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت جب شام اور عراق میں فوجی اور سیاسی اقدامات دہشت گردوں کی نابودی کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں امریکا نے دہشت گردوں کو نجات دلانے اور ان کی تقویت کے لئے شامی فضائیہ کے اڈے پر یہ حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ شام پر امریکا کا حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن شام میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے دہشت گردی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کررہاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اس حملےسے شام میں سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شام پر امریکا کے میزائل حملے سے دہشت گردی کے خلاف شامی عوام حکومت اور فوج کے حوصلے کمزور نہیں ہوں گے۔