تشدد اور انتہا پسندی دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے، صدر حسن روحانی
صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے تشدد اور انتہا پسندی کو خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کی سوچ اور کلچر کے خلاف جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ عراق میں داعش پر عراقی عوام کی فتح اور موصل کی آزادی خطے کی تمام قوموں کے لیے انتہائی خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو مل کر، فوجی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی طریقے سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ دنیا کو تشدد اور انتہا پسندی سے پاک کیا جاسکے۔
صدر کا کہنا تھا کہ ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت اور عوام کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک شروع میں عراق کے لیے ایران کی حمایت سے خوش نہیں تھے لیکن دہشت گردی کے پھیلاؤ کے بعد انہیں پتہ چلا کہ ایران کی سوچ بہت گہری اور مستقبل کی صورتحال سے سازگار ہے۔
صدر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے دانشمندانہ پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکہ پر کافی اعتماد نہیں ہے اور واشنگٹن، جامع ایٹمی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکہ کے لیے فیصلہ کرنا دشوار ہوگیا ہے اورآج وہ عالمی اداروں میں ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
صدر حسن روحانی نے امریکی وزیر جنگ کے مداخلت پسندانہ بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے ایران کے خلاف ناکام سازشوں میں مصروف ملک امریکہ کو آئندہ بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر جنگ جیمس میٹس نے اپنے مداخلت پسندانہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مثبت تعلقات کے قیام کے لیے ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی ضروری ہے۔