ایران کا میزائلی پروگرام جاری رہے گا،ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ تہران ، امریکی اقدامات کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے اپنا میزائلی پروگرام پوری قوت سے جاری رکھے گا۔
امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ نے بھاری اکثریت سے ایران کے خلاف پابندی عائد کرنے کے بل کو منظوری دی ہے جبکہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیٹر نوئرٹ نے بھی سیمرغ اسپیس لانچنگ وہیکل کو جامع ایکشن پلان کے منافی قرار دیا ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سنیچر کو ہمارے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور واشنگٹن کے دشمنانہ اقدامات کے بارے میں کہا کہ فوجی امور اور میزائلی پروگرام کے سلسلے میں ایران کی پالیسی پوری طرح واضح ہے اور دوسروں کو اس سلسلے میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔بہرام قاسمی نے ایران کی دفاعی اور میزائلی پالیسی کو ملک کے دفاع خطے کے امن و استحکام میں مددگار قرار دیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران کا میزائیل پروگرام ہمسایہ ممالک اور دیگر ملکوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ایران کے خلاف جارحیت کی ہر احمقانہ سوچ کو روکنے کی ایک حکمت عملی ہے ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے منظور کیے جانے والے بل میں پچھلی پابندیوں کو جمع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام، مخاصمانہ، بلا جواز اور قابل مذمت ہے اور اس کا مقصد کثیرالفریقی عالمی سمجھوتے یعنی جامع ایٹمی معاہدے کو کمزور کرنا ہے۔بہرام قاسمی نےامریکہ کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کے الزامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بھی کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے کے امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کا مخالف ہے اور وہ دہشت گردوں کے ذریعے خطے میں آشوب اور بدامنی کو ہوا دینا چاہتاہے- امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھے ایرانی اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے جمعے کی شام ایران کے تحقیقاتی اور سائنسی راکٹ سیمرغ کے کامیاب تجربے کےبعد یہ پابندیاں عائد کی ہیں-امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں آیا ہے کہ چھے ایرانی اداروں کے اثاثوں کو منجمد کردیا جائےگا اور مذکورہ اداروں کے ساتھ امریکہ اور دیگر ملکوں کے اداروں اور شہریوں کو بھی تعاون سے روک دیا گیا ہے۔