صدر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری
صدر حسن روحانی نے ہفتے کی شام پارلیمنٹ مجلس شوری اسلامی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں عہدہ صدارت کی دوسری مدت کا حلف اٹھالیا ہے ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی تقریب حلف برداری میں دنیا کے مختلف ملکوں کے صدور، وزرائے اعظم، وزارائے خارجہ کے علاوہ پارلیمانی اسپیکروں اور اعلی سطحی سیاسی وفود نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام اللہ مجید سے ہوا جس کے بعد اسپیکر پارلیمنٹ ڈاکٹر علی لاریجانی نے ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ڈاکٹر علی لاریجانی نے اس موقع پر کہا کہ صدارتی انتخابات میں ایران کے تہتر فی صد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جو اسلامی جمہوری نظام میں عوامی مشارکت اور حصہ داری کی بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے چھتیس انتخابات عمل میں آئے ہیں اور ملک میں ہونے والے اولین استصواب رائے میں اٹھانوے فی صد رائے دھندگان نے اپنے حق رائے دھی استعمال کیا تھا۔اسپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ امام خمینی رح نے اپنی دور اندیشی اور اور تدبر کے ذریعے ملک میں آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔اسپیکر کے خطاب کے بعد صدر حسن روحانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور اس بات کا عہد کیا کہ ملک کے آئين کے حفاظت اور ملک کی ترقی و پیشرفت کے راستے میں پوری توانائياں بروئے کار لائیں گے۔ عدلیہ کے سربراہ ڈاکٹر صادق آملی لاریجانی نے آئین کی دفعہ ایک سو اکیس کے تحت صدر حسن روحانی سے حلف لیا۔حلف اٹھانے کے بعد صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں ایران میں اسلامی جمہوری نظام کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران داخلی اور بیرونی دونوں سطح پر امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے تاہم ملک و ملت کے دفاع کے لیے ہروقت تیار ہے اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے۔صدر حسن روحانی نے دنیا کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کے عوام اور حکومت کے ٹھوس اور متحدہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے ایٹمی معاملے کے حل، سلامتی کونسل کی قرارداد کی منسوخی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کو اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیا۔ صدر حسن روحانی نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایران ہرگز جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا تاہم امریکہ کے اقدامات کے مقابلے میں بھی خاموش نہیں رہے گا۔صدر ایران نے کہاکہ ہمیں امریکہ کے نو آموز حکمرانوں نے کوئي لینا دنیا نہیں تاہم ہم کنہ مشق امریکی حکمرانوں پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جامع ایٹمی معاہدے کو پھاڑنے سے ان کا پوری سیاسی کیریئر تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ دور پابندیوں کا نہیں مذاکرات کا دور ہے تاہم بڑی طاقتوں کو اپنے مفادات کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔ صدر ایران نے جنگ اور جھڑپوں کے خاتمے کو شام اور یمن سمیت خطے کے بحرانوں کے خاتمے کا واحد حل قرار دیا اور شامی اور یمنی گروہوں کے درمیان باہمی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔