صدر روحانی کا امریکہ کو سخت انتباہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران مخالف پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو تہران مختصر عرصے میں جامع ایٹمی معاہدے سے باہر نکل جائے گا۔
منگل کے روز پارلیمنٹ میں اپنی کابینہ کے ارکان کی صلاحیتوں کے جائزے اور رائے شماری کے لیے ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکی حکام کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ پابندیوں اور تسلط پسندی کے ناکام تجربات ہی ماضی کی امریکی حکومتوں کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لائے تھے اور اگر وہ ناکام تجربات کو دوہرانا چاہتے ہیں تو شوق سے دوہرائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یقینا اسلامی جہموریہ ایران بہت جلد جوہری مذاکرات شروع ہونے سے پہلےوالے دور سے بھی زیادہ جدید ترین حالات کے ساتھ واپس پلٹ جائے گا۔صدر حسن روحانی نے امریکہ کی بہانہ تراشیوں اور عہد شکنی کے مقابلے میں ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کو امریکہ کے ناجائز مطالبات کی شکست قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے حالیہ مہینوں کےدوران اس بات کا کھل کر مشاہدہ کیا ہے کہ امریکہ عالمی معاہدوں کو نظر انداز کر رہا ہے اور جامع ایٹمی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کے علاوہ اس نے پیرس معاہدے، کیوبا پیکٹ اور آزاد تجارتی معاہدے نفٹا کو بھی پامال کردیا ہے۔صدر حسن روحانی نے مغربی ایشیا کی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا کہ ایران تکفیری گروہوں کے تشدد پسندانہ اقدامات اور بیرونی طاقتوں کے بل پر خطے میں قیام امن کی ناکام کوششوں کو اہم ترین علاقائی چیلنج سمجھتا ہے اور پوری نیک نیتی اور ٹھوس عزم کےساتھ خطے میں امن اور استحکام کی برقراری کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خطے کی مشکلات کا حل صرف اور صرف علاقائی ہے اور خطے میں استحکام کے پائیدار لنگر کی حثیت سےاسلامی جمہوریہ ایران تمام ہمسایہ ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اس علاقے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔صدر حسن روحانی نے پارلیمنٹ کے روبرو اپنی کابینہ کے وزرا کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ تمام نامزد وزرا مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے، عوام کی خدمت، اسلامی جمہوریہ ایران کی امنگوں کو آگے بڑھانے اور قومی مفادات کے تحفظ کی پوری توانائی رکھتے ہیں۔