علاقے کی جغرافیائی پوزیشن میں تبدیلی خطرناک ہے : صدر روحانی
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے عراقی کردستان میں ریفرینڈم اور علاقے کے ممالک کے جغرافیا میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو خطرناک قرار دیا ہے
ایران کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیوگوترش سے ملاقات میں اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام ملکوں کو عراق کی ارضی سالمیت اور آئین کی حفاظت اور بھرپورحمایت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مسائل کے حل کے لئے سیاسی راہ تلاش کرنا چاہئے- صدر حسن روحانی نے علاقے کے مسائل کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے ایران کی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی سمجھوتہ، علاقے اور دنیا میں امن و استحکام کے لئے بہترین مثال ہے- انھوں نے کہا کہ ایٹمی سمجھوتے کی، خاص طور پر اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے مقابلے میں اس معاہدے کی حمایت اور اسے مضبوط بنانے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ایٹمی انرجی کے عالمی ادارے کی ذمہ داری نہایت اہم ہے - اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیوگوترش نے بھی عراق کی ارضی سالمیت اور آئین کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شام یا عراق کی تقسیم سے علاقے کے استحکام میں کوئی فائدہ نہیں پہنچےگا اور اقوام متحدہ علاقے میں امن و سیکورٹی کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے- آنٹونیوگوترش نے کہا کہ شام و عراق کے موجودہ مسائل کا حل، صرف سیاسی ہے اور وہ تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے- ایران کے وزیرخارجہ نے بھی عراق سے کردستان کے علاقے کے الگ ہونے کے لئے ریفرینڈم کے انعقاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس ملک کے قومی اقتدار اعلی کے احترام، آئین کی پابندی اور عراق کے اتحاد اور ارضی سالمیت کے تحفظ پر تاکید کی-ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے نیویارک میں عراق میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے یان کوبیش سے ملاقات میں عراق سے کردستان کو الگ کرنے کے لئے ریفرینڈم کرائے جانے کی مخالفت کرتےہوئے کہا کہ بغداد - اربیل کے درمیان گفتگو ہی اختلافات کے حل کا واحد راستہ ہے- عراقی کردستان کی بعض پارٹیوں نے سات جون دوہزار سترہ میں اس علاقے کی مقامی انتظامیہ کےسربراہ مسعود بارزانی کے ساتھ ایک نشست میں پچیس ستمبر کو عراق سے کردستان کے الگ ہونے کے لئے ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ وہ موضوع ہے جس کی عراقی حکومت اس ملک کی مختلف پارٹیاں اور علاقے اور دنیا کے ممالک مخالفت کررہے ہیں-