Oct ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۰ Asia/Tehran
  • ایران اور فرانس کے صدور کی ٹیلی فونی گفتگو

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر کسی بھی صورت میں دوبارہ بات چیت نہیں ہوسکتی۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے فرانس کے صدر امانوئیل میکرون سے ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکی صدرکے ہر طرح کے اقدام سے اس چند جانبہ معاہدے کو نقصان پہنچےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے پر کسی بھی صورت میں بات چیت نہیں ہوگی اور سبھی فریقوں کو اپنے وعدوں پر عمل پیرا رہنا ہوگا اور اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ امریکی صدر یا کانگریس ایٹمی معاہدے کے خلاف کوئی اقدام کریں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ہی وہ واحد ادارہ ہے جو ایٹمی معاہدے پر ایران کی جانب سے عمل درآمد کے بارے میں رائے دے سکتا ہے اور ایک بین الاقوامی معاہدے کو امریکا کے داخلی اختلافات میں شامل کرنے سے دنیا کے اعتماد کو خطرناک حدتک ٹھیس پہنچےگا۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اور آئی اے ای اے کے ساتھ اپنا تعاون بھی جاری رکھے گا کہاکہ ایٹمی معاہدہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اعتماد کی بنیاد ہے اور اس معاہدے کا استحکام اور تقویت یورپی یونین کے ساتھ دیگر مسائل کے بارے میں بھی مذاکرات اور بات چیت کی اصل بنیاد بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور ایران، باہمی تعاون کے ذریعے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں تباہ کن اور غلط اقدامات کو روکیں۔صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران اور پیرس کے تعلقات کے استحکام میں ایٹمی معاہدے کے کردار کے بارے میں کہا کہ ایران سبھی میدانوں میں فرانس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے تیار ہے۔
فرانس کے صدر امانوئیل میکرون نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ پیرس تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو تمام میدانوں میں فروغ دینے میں پرعزم ہے۔انہوں نے ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ یورپی یونین اور فرانس ایٹمی معاہدے کا بھرپور دفاع کریں گے اور اس پرعمل درآمد کے پابند ہیں۔

ٹیگس