Oct ۲۳, ۲۰۱۷ ۱۳:۰۲ Asia/Tehran
  • آیت اللہ مصطفی خمینی مرحوم کو صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا خراج عقیدت

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ آج ایران اور اسلام بہت ہی بلند مقام پر پہنچ چکے ہیں اور علاقے میں سامراج جتنا زیادہ آج ذلیل ہوا ہے اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کو آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم آیت اللہ الحاج سید مصطفی خمینی ایک عظیم علمی و انقلابی شخصیت تھے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے امانت دار مشیر تھے-

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ان کی شخصیت کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ سے لیا جا سکتا ہے، کہا کہ تئیس اکتوبر انیس سو ستتر کو آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی شہادت کی خبر نے پورے ایرانی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا اوران کی شہادت کی خبر ایرانی عوام کے عزم و ارادے کے کھل کرسامنے آنے اور جوش و ولولے کا سبب بنی-

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عالمی استکبار بدستور موجود ہے اور دشمن کی سازشیں جاری ہیں، کہا کہ آج ایران اور اسلام بہت بلند مقام پر واقع ہیں اور سامراج علاقے میں اس سے پہلے اتنا زیادہ کبھی ذلیل و رسوا نہیں ہوا تھا-

انہوں نے ایران کے  دفاعی ساز وسامان کے بارے میں بعض غیر ملکی حکام کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے فوجی ساز وسامان بھی دنیا کے دیگر ملکوں کے فوجی ساز وسامان کی ہی طرح ہیں اور ایران کی دفاعی توانائی بھی خطرات کے مقابلے میں دفاعی نوعیت کی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ملک کا دفاع کیا جا سکے-

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایرانی عوام کے خلاف دشمن کی ظالمانہ پابندیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پابندی ایرانی عوام پر ظلم اور غلط اور جاہلانہ اقدام تھا تاہم ایرانی عوام نے مشکلات اور پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا-

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایٹمی معاملے میں بڑی طاقتوں کے ساتھ ایران کے مذاکرات کے بارے میں بھی کہا کہ ایران نے ایٹمی معاملے میں جو اہم اور بنیادی مقصد تھا جیسے اپنے حق کی بازیابی، الزامات کو غلط ثابت کرنا اور پابندیوں کا خاتمہ وہ سب حاصل کر لیا اور دشمن اسی بات سے ناراض ہے-

واضح رہے کہ امریکا نے ایک عشرے قبل عالمی برادری کو فریب دے کر اور سلامتی کونسل کو استعمال اور آئی اے ای اے پر دباؤ ڈال کر ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیاں عائد کی تھیں لیکن اس وقت تین واضح وجوہات اور دلیلوں کی وجہ سے صورت حال ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے اور اب ماضی کی جانب واپس لوٹنے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے-

پہلی وجہ اور دلیل یہ ہے کہ ایٹمی مذاکرات کے دوران ایران کے مثبت کردار اور ایجنسی کے ساتھ معاہدے سے بھی زیادہ ایران کے تعاون نے ایٹمی معاملے میں امریکا کے دعوؤں کے جھوٹا ہونے کو ثابت کر دیا-

دوسری دلیل یہ ہے کہ امریکا کی دھمکیوں اور دباؤ کے مقابلے میں ایران کی قوت و استقامت پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔

اور تیسری دلیل یہ ہے کہ ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں عالمی برادری کا اتفاق ہے کہ ایران نے اس معاہدے پر پوری طرح عمل کیا ہے اور یہ وہ معاہدہ ہے جو چند جانبہ ہے اور جس کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی تصدیق کی ہے ساتھ ہی یہ معاہدہ ایک ایسا معاہدہ ہے کہ اس پر نہ تو اب بات ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل لایا جا سکتا ہے-

ٹیگس