Mar ۲۹, ۲۰۲۶ ۱۸:۰۱ Asia/Tehran
  • اسلامی دنیا کے رہنماؤں  کو یاد رکھنے کی باتیں!

اسلامی دنیا کے رہنماؤں! یاد رکھیں کہ آج عالمِ اسلام، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک سیاسی تنازعہ یا وقتی ٹکراؤ نہیں ہے—نہ یہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش ہے، اور نہ ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ تک محدود ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام:یہ دراصل امتِ مسلمہ کی قیادت میں ایک گہرے فکری، اسٹریٹجک اور اخلاقی بحران کی علامت ہے۔

اصل خطرہ دشمن کی طاقت نہیں، بلکہ ہماری اپنی تقسیم، مصلحت پسندی اور بنیادی ترجیحات سے انحراف ہے، جو بعض مسلم اور عرب رہنماؤں میں واضح نظر آتا ہے۔

رہنماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ فلسطین کے مسئلے، ایران-امریکہ کشیدگی، اور غزہ میں جاری ظلم کو فرقہ وارانہ رنگ دینا—جیسے اسے شیعہ-سنی تنازعہ بنا دینا—اس صدی کی سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطی ہے۔

جب حمایت یا خاموشی کا معیار "مذہب" بن جائے، نہ کہ "حق اور انصاف"، تو شریعت کے بنیادی اصول—مظلوم کی مدد اور ظالم کی مخالفت—سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف اسلامی نظاموں کی اخلاقی حیثیت کو کمزور کرتا ہے بلکہ امت کو فکری اور اخلاقی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بیرونی خطرات اندرونی اختلافات کے ساتھ مل جائیں، تو نتیجہ قوموں کی تباہی اور مستقل غلامی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اگر آج بھی اسلامی ممالک اجتماعی سلامتی کی حکمتِ عملی بنانے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگوں اور فرقہ واریت میں الجھے رہے، تو جلد ہی پورے خطے میں خطرناک جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں—جو کئی ریاستوں کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، غزہ میں شہریوں کے قتل عام پر خاموشی، اور مذہبی اختلافات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا—یہ تین عوامل امت کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہیں۔

سوچئے!
اگر ایران اور امریکہ کی کشمکش کو آپ صرف "شیعہ بمقابلہ امریکہ" سمجھتے ہیں، تو پھر غزہ میں ہزاروں سنی مرد، عورتیں اور بچے کیوں شہید ہوئے؟
کیا وہ بھی شیعہ تھے کہ دنیا خاموش رہی؟

آج بھی اگر بیرونی طاقتیں آپ کی سرزمین، فضائی حدود اور وسائل استعمال کر کے مسلم ممالک پر حملے کر رہی ہیں، تو کیا یہ سیاسی بصیرت اور ہمسائیگی کے اصولوں کے مطابق ہے؟

اگر یہی روش جاری رہی، تو آنے والی نسلیں نہ صرف مزید مقبوضہ سرزمینوں بلکہ شکست خوردہ ذہنیت اور بکھری ہوئی شناخت کے ساتھ زندہ رہیں گی۔

وقت آ گیا ہے کہ اسلامی دنیا کے رہنما اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ لیں۔
امت کی وحدت، خودمختاری، اجتماعی مفادات اور قرآن و سنت کی بنیاد پر "دوست" اور "دشمن" کی نئی تعریف—یہ سب ناگزیر ہیں۔

اگر آج انصاف اور حق کے لیے ایک متحد آواز نہ اٹھی، تو کل یہ خاموشی تاریخ میں ایک بڑے ناکام باب کے طور پر درج ہوگی۔

**یاد رکھیں:**
یا تو آپ حق کے محافظوں میں شمار ہوں گے،
یا ظلم کے جواز پیش کرنے والوں میں۔

یہ صرف ایک جذباتی اپیل نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ علمی اور اسٹریٹجک انتباہ ہے۔

موجودہ صورتحال اگر جاری رہی، تو فلسطین کا مسئلہ ایک زندہ حقیقت سے محض ایک تاریخی یادگار بن جائے گا—اور اس کے بعد دیگر اسلامی ممالک بھی عدم استحکام اور دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

**حل صرف ایک ہے:**
سیاسی بصیرت، اتحادِ امت، فرقہ واریت کا خاتمہ، اور مشترکہ ذمہ داری کا احساس۔

✍️ پروفیسر مرتضیٰ حامد
(بنیاد: صدائے منبر، جامعہ کے استاد)

 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس