آئی اے ای اے کی غیر جانبداری پر تاکید
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کی غیر جانبداری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے اتوار کو تہران میں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی۔
صدر مملکت نے اس ملاقات میں آئی اے ای اے کی غیر جانبداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کی تصدیق کرنے کا واحد ادارہ آئی اے ای اے ہے۔
انھوں نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے میں اصول و ضوابط معین کر دیئے گئے ہیں اور صرف وہی اصول و ضوابط ایران کے عمل کا معیار ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے اب تک جامع ایٹمی معاہدے کے نفاذ اور اس کے ثبات و دوام میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھرپور تعاون کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آئی اے ای اے کے سیف گارڈ سسٹم، بین الاقوامی قوانین اور جامع ایٹمی معاہدے کے مطابق ایجنسی کے ساتھ وسیع تر تعاون کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ طویل المیعاد تعاون کا ارادہ رکھتا ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایران کے بھر پور تعاون کے پیش نظر آئی اے ای اے، ایران کے جوہری پروگرام کی ماہیت کے پرامن ہونے کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ جلد از جلد پیش کرے گی۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ کوئی بھی ملک، کثیر فریقی اور بین الاقوامی معاہدوں کے تعلق سے خودسرانہ عمل نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ایران، جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے والا پہلا ملک ہرگز نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ جب تک ایران جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کے فوائد سے بہرہ مند رہے گا، اس کی پابندی جاری رکھے گا۔
جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے بھی اس ملاقات میں جامع ایٹمی معاہدے کو ایک بہت اچھا معاہدہ قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک جامع ایٹمی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پابندی کی ہے۔
یوکیا امانو نے ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر میں آئی اے ای اے کا اعتبار اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی اپنے موقف میں غیر جانبداری کو باقی رکھے گی اور حقائق کی بنیاد پر صحیح رپورٹیں پیش کرے گی۔