روسی صدر کی صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے دورہ تہران میں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے روسی صدر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کو انتہائی اہم قرار دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایران شمال - جنوب کوریڈور نیز ریل رابطوں کے انفرااسٹریکچر کی تعمیر میں روس کے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے جامع ایٹمی معاہدے کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقوں کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانے میں روس اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران اور روس کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے آخری مراحل میں ایران اور روس کے درمیان تعاون اور صلاح و مشورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اس موقع پر کہا کہ ایران روس کا پڑوسی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔
روسی صدر نے جامع ایٹمی معاہدے کو عالمی امن و استحکام کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوئی بھی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کا ایران کے دفاعی اور میزائل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
قبل ازیں آذربائیجان کے صدر الہام علی اف نے بھی صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔