امریکا کو بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑےگی ، صدر روحانی
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے استنبول میں او آئی سی کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کو صیہونی حکومت کے مقابلے میں متحد ہوجانا چاہئے اور امریکا مسئلہ فلسطین میں کبھی سچا ثالث نہیں بن سکتا، اسے اپنے اس فیصلے کی بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجت الاسلام ڈاکٹر حسن روحانی نے او آئی سی کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں تقریرکے دوران بیت المقدس کے بارے میں امریکا کے غیر قانونی اور غلط فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے عالم اسلام کو متعدد تجاویز پیش کیں اور کہا کہ امریکا صرف صیہونیوں کو زیادہ سے فائدہ پہنچانےکی کوشش میں رہتاہے اور اس کو فلسطینیوں کے جائز اور قانونی حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی تجویز تو یہ ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے اقدام کی بھرپور مذمت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے بارے میں امریکا کے غیرقانونی فیصلے کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دوسری تجویز یہ ہے کہ صیہونی حکومت کے مقابلے میں پورا عالم اسلام متحد ہوجائے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو درک کرے کہ عالم اسلام فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں کبھی بھی لاتعلق اور غافل نہیں رہا ہے اور فلسطین کے بارے میں عالمی قراردادوں اور قوانین اور ساتھ ہی عالمی برادری کے نظریات کا مذاق اڑانے کی امریکا کو بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑےگی۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کی اس مسئلےمیں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اسلامی ممالک متحد اور ایک آواز ہو کر امریکا کے تازہ اقدام کی ہر طرح سطح پر مخالفت کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے اس اقدام کی واشنگٹن کے دوست ملکوں خاص طور پر یورپی ملکوں کے حکام کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے دوران مخالفت کی جانی چاہئے اور اس فیصلے کے مقابلے میں پوری ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جانا ۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالم اسلام کو یہ تجویز بھی پیش کرتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ عالم اسلام کے سب سے اہم اور بنیادی مسئلے کے طور پر دوبارہ سرفہرست آنا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ عراق اور شام میں داعش کی شکست کے بعد صیہونی حکومت کے خطرات منجملہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔
صدر مملکت حسن روحانی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں اسلامی ملکوں کے نمائندوں کو صیہونی حکومت کے اقدامات پر گہری نظر رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے بھی اس وقت ٹرمپ کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران بیت المقدس کے دفاع کے لئے سبھی اسلامی ملکوں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لئے تیارہے کہا کہ یہودیوں کے دشمن مسلمان اور عرب نہیں ہیں بلکہ صیہونیزم کا خطرناک پروجیکٹ یہودیوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کے صدر میشل عون نے کہا کہ فلسطین کی مقبوضہ سرزمینوں میں صیہونیوں نے بدترین نسلی صفائی کا ارتکاب کیا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل یوسف بن احمد العثیمین نے استنبول اجلاس میں کہا کہ او آئی سی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے تعلق سے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی دنیا کے ملکوں سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ بیت المقدس میں اپنے سفارتخانے منتقل نہ کرنے کے وعدوں پر قائم رہیں اور بیت المقدس کی فلسطینی اور عربی شناخت کی حفاظت کریں اور اس شہر کو یہودی رنگ دینے کی اسرائیل کی کوششوں کا مقابلہ کریں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل تو کوئی ملک ہی نہیں ہے کہ اس کا کوئی دارالحکومت ہو۔
انہوں نے کہا کہ جب تک بیت المقدس کو باقاعدہ طور پر فلسطین کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرلیا جاتا اس وقت تک صلح مذاکرات نہیں ہوں گے۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت تھا، ہے اور رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے مسئلہ فلسطین میں ایک ثالث کی حیثیت سے اپنا کردار کھو دیا ہے۔
قبل ازیں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک غاصب اور دہشت گرد حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ کھولے۔ ترک صدر نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر مبنی امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ تاریخی قانونی اور اخلاقی ہر اعتبار سے غیر معتبر ہے۔
استنبول میں او آئی سی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیرخارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین میں ثالث کی حیثیت سے امریکا کا کردار ختم ہوگیا ہے۔ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔