ایٹمی معاہدہ باقی ہے، ترجمان وزارت خارجہ ایران
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ بدستور باقی ہے اور یورپ کے ساتھ تعاون کے طریقہ کار کے بارے میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدہ تاحال باقی ہے اور صورتحال پوری طرح سے مستحکم ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرکے عہد شکنی کی ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بحران یمن کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تہران نے شروع سے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کو اس وقت انسانی بحران کا سامنا ہے جسے ختم کرانے کے لیے عالمی اداروں اور یورپی ملکوں کو فوری اقدامات انجام دنیا چاہیں۔بہرام قاسمی نے یہ بات زور دے کر کہی ایران دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے یمنی عوام کی صدائے مظلومت کو دنیا کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس ملک کے عوام تک انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کے خلاف ہیگ کی عالمی عدالت میں دائر کردہ درخواست کے بارے میں کہا کہ دو ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے ضبط کرنے پر امریکہ کے خلاف ایران کی شکایت کی سماعت آٹھ اور نو اپریل کو ہوگی۔امریکہ اور یورپ کے درمیان تجارتی جنگ اور ایران یورپ قربت کے بارے میں بہرام قاسمی کا کہنا تھا کہ علاقائی معاہدے اپنا راستہ طے کرتے ہیں اور ملکوں کے باہمی تعلقات قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں لہذا تمام معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑنا صیحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو امریکہ یورپ رابطوں اور یا یورپ ایران ہم آہنگی کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یورپی پیکیج اور چین و روس کے کردار کے بارے میں کہا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی کے بعد ایٹمی معاہدے کو جاری رکھنے پر ایران، یورپ، روس اور چین نے اتفاق کیا تھا لہذا کوئی بھی پیکیج معاہدے کے باقی ماندہ تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہونا چاہیے۔