Feb ۲۱, ۲۰۲۶ ۱۶:۴۳ Asia/Tehran
  • امریکہ ؛ ٹرمپ نے تمام ممالک پر دس فیصد ٹیرف کا حکم نامہ جاری کر دیا

امریکی سپریم کورٹ کے توسط سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر دس فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔

سحرنیوز/دنیا:      امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر پچھلے سال لگائے گئے صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیرقانونی قرار دے دیے ۔ تین کے مقابلے میں چھ ججوں کی اکثریت نے یہ فیصلہ سنایا جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ہے۔

 

عدالت نے کہا کہ جن ہنگامی اختیارات کا سہارا لے کر ٹیرف لگائے گئے وہ اس حد تک طاقت استعمال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اضافی ٹیرف نافذ کرتے وقت اختیارات سے تجاوز کیا۔ یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

 

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر امریکی صدر ٹرمپ نے ردعمل ظاہر کرتےہوئے کہا ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے۔ اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کورٹ کے کچھ ممبرز کے لیے شرمناک ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں تاہم ان ممالک کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکی صدر نے تمام ملکوں پر فوری طور پر دس فیصد ٹیرف عائد کردیئے- وائٹ ہاؤس کے مطابق ایک سو پچاس دن کے لیے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر دس فیصد ڈیوٹی عائد ہو گی، جبکہ بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنی ہوں گی۔ مستثنی اشیا میں معدنیات، کھاد، دھاتیں اور توانائی آلات سمیت زرعی اجناس اور ادویات کا خام مال بھی شامل ہے، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکا میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکشن تین سو ایک کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے- ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرار ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہوگا۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو لاقانونیت پر مبنی قرار دیا ہے۔ نائب صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ٹیرف عائد کرنے کے دیگر کئی اختیارات موجود ہیں اور وہ امریکی ورکرز کے دفاع اور انتظامیہ کی تجارتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے ان اختیارات کو استعمال کریں گے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹیرف کے لیے سیکشن دو سو بتیس اور سیکشن تین سو ایک کا سہارا لیا جائے گا جنہیں عدالتوں میں کئی مرتبہ چیلنج کیا گیا مگر عدالتوں نے انہیں درست قرار دیا۔

 

ٹیگس