اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکہ کی تنہائی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کے بارے میں اپنے ایک اجلاس میں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور تہران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کو اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتّیس اور اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف قرار دیا اور امریکی صدر ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کی اور ایٹمی معاہدے کی حمایت اور اس بین الاقوامی معاہدے پر عمل کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرش نے سلامتی کونسل کے نام اپنی سلسلے وار رپورٹ میں جو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر بائیس اکتّیس کے مطابق ہر چھے ماہ میں ان کو پیش کرنا ہوتی ہے، تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ دو ہزار پندرہ میں ایٹمی معاہدے کی سلامتی کونسل کی جانب سے اتفاق رائے سے منظوری دی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ سولہ جنوری سن دو ہزار سولہ سے اب تک ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی اپنی گیارہ رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرش کے بیان کے بعد اقوام متحدہ میں مستقل امریکی مندوب نکی ہیلی نے کوئی ثبوت پیش کئے بغیر دعوی کیا کہ ایران مسلسل اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتّیس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں مستقل روسی مندوب واسیلی نبنزیا نے ایٹمی معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتّیس کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب کے بیانات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اور ایٹمی معاہدے پر ان سے پڑنے والے اثرات کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ میں کوئی ذکر نہ ہونا باعث حیرت ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتیس پر عمل درآمد کے بارے میں رپورٹ میں ایران کے خلاف یکطرفہ طور پر پابندیوں کے نفاذ سے متعلق امریکی اقدام کی طرف کیوں کوئی اشارہ تک نہیں کیا گیا ہے جبکہ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف اس کے اپنے وعدے کی خلاف ورزی بلکہ اقوام متحدہ کی قرارداد بائیس اکتیس کے بھی منافی ہے۔
اقوام متحدہ میں برطانیہ کے مستقل مندوب کارن پیرس نے بھی ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لندن اس معاہدے پر عمل کرتا رہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے قابل اطمینان اقدامات عمل میں لائے جائیں کہ ایٹمی معاہدے سے ایران اپنے اقتصادی مفادات کو پورا کرتا رہے۔
اقوام متحدہ میں فرانس کے مندوب فرانسوا دولاتر نے بھی ایٹمی معاہدے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ جب تک ایران ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے فرانس بھی اس بین الاقوامی معاہدے پر کاربند رہے گا۔
اقوام متحدہ میں یورپی یونین کے نمائندے جوا والے ڈی المیدیا نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدے کے یورپی اور دیگر شریک ممالک اسے باقی رکھنے کی انتھک کوششیں جاری رکھیں گے کہا کہ یورپ ایران کے ساتھ تجارت کے ممکنہ دیگر طریقے بھی تلاش کرے گا اور یہ کہ یورپ ایران کے ساتھ تجارت کے لئے فوری راہ حل کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے بدھ کے روز برلن میں ایٹمی نظم کا مستقبل اور سفارت کاری کی مشکلات کے زیر عنواں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے کے تحفظ سے متعلق تازہ ترین صورت حال پر کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ طور پر بین الاقوامی معاہدے کی منسوخی امریکی خارجہ پالیسی اور سیکورٹی کی پالیسی میں ایک بنیادی غلطی کی حیثیت سے ہمیشہ باقی رہے گی۔
دریں اثنا اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے ایک بیان میں ایٹمی معاہدے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس سے واضح ہو گیا کہ ایٹمی معاہدے سے حوالے سے امریکہ بالکل تنہا ہو کر رہ گیا ہے اور عالمی برادری نے یکطرفہ پسندی کے مقابلے میں کثیر جانبہ رجحان کی بھرپور حمایت کی ہے۔