یمن کے صوبے حجہ پر جارحیت کی ایران کی جانب سے مذمت
اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار، نہ صرف یمن پر مسلط کردہ جنگ پر خاموش ہیں بلکہ وہ جارحیت کرنے والوں کو مہلک ہتھیار بھی فراہم کر رہے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے یمنی صوبے حجہ پر سعودی اتحاد کی حالیہ فضائی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی دعویدار، یمنیوں پر سعودی عرب کے سنگین جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ بہرام قاسمی نے اپنے ایک بیان میں صوبہ حجہ کے ایک علاقے میں سعودی اتحاد کی حالیہ فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس میں بچوں اور خواتین سمیت بیس افراد شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے یمن کے خلاف جاری جارحیت اور وہاں نہتے عوام کے قتل عام پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ یمن میں بچے اور خواتین، کئی برسوں سے قحط سالی اور بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ مغرب کی پشت پناہی میں سعودی اتحاد ان پر ہولناک بمباری کر رہا ہے اور یمن کے مظلوم عام شہریوں کی شہادت، انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں کی پیشانی پر کلنگ کا ایک ٹیکہ ہے اور یہ سیاہ دھبہ تاریخ میں ہمیشہ ان کے ریکارڈ میں باقی رہے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار نہ صرف یمن پر مسلط کردہ جنگ پر خاموش ہیں بلکہ وہ جارحیت کرنے والوں کو مہلک ہتھیار بھی فراہم کر رہے ہیں اوراسی بنا پر یمنی شہریوں کے قتل عام میں وہ برابر کے شریک ہیں۔
یمن پر جارحیت کی مخالف جماعتوں کے اتحاد نے بھی سعودی اتحاد کی جارحیت میں عورتوں اور بچوں کی ہونے والی شہادت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یمن میں جاری قتل عام جارح قوتوں کی وحشیانہ خصلت و ماہیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
جارحیت مخالف اتحاد نے بھی تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ یمن میں وحشیانہ قتل عام پراقوام متحدہ کی خاموشی، انسانیت کے قتل میں اس عالمی ادارے کے ملوث ہونے کے مترادف ہے۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اتوار کے روز مغربی یمن کے صوبے حجہ کے علاقے کشر پر وحشیانہ بمباری کر کے بیس عام شہریوں کو شہید کر دیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے امدادی ٹیموں کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا اور زخمیوں کی مدد کئے جانے میں رخنہ اندازی کی۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی اتحاد کے فوجیوں نے صوبے الحدیدہ پر گولہ باری بھی کی۔ اسی اثنا میں یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی نے یمن پرجارحیت میں امریکہ و برطانیہ کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں امریکہ و برطانیہ کے اسٹریٹیجک اور سیاسی مفادات مزاحمت کا مقابلہ اور یمن میں جنگ جاری رکھنے میں ہی ہیں تا کہ غاصب صیہونی حکومت کو جتنا زیادہ ممکن ہو سکے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ یمنی قوم اپنے اتحاد و یکجہتی سے دشمنوں کی تمام سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنا دے گی اور وہ دشمنوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اوراسرائیل کی حمایت سے اوراتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔
یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات، اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔