Sep ۰۱, ۲۰۲۰ ۲۰:۵۹ Asia/Tehran
  • ایرانی عوام کے خلاف پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی ناکام ہو کر رہے گی: حکومت ایران

ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کے خلاف پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی کی ناکامی کی علامتین امریکی عہدیداروں کے چہروں پر دیکھی جا سکتی ہیں اور واشنگٹن کو جلد ہی ایک یادگار شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علی ربیعی نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکہ کے پاس ایران کے خلاف پابندیوں کا کوئی نیا حربہ نہیں ہے، کہا کہ ایک طرف ایرانی عوام کے قومی عزم اور دوسری طرف عالمی سطح پر امریکہ کے تنہا پڑ جانے کے سبب خود امریکہ کو ہی زیادہ سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے امریکہ کی طرف سے ٹریگر میکنزم استعمال کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اب جب واشنگٹن جوہری معاہدے کا رکن ہی نہیں ہے تو وہ اس معاہدے کی کسی شق سے غلط فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی ناکامی کے بعد قرارداد نمبر 2231 کے سلسلے میں ایک بہت ہی بچکانہ اور منہ زوری والی تشریح پیش کی جسے تقریبا دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔

علی ربیعی نے سلامتی کونسل کی قرارداد اور جوہری معاہدے کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی پر ایران کے رد عمل کے بارے میں کہا کہ اس کا فیصلہ ملک کی اعلی قومی سلامتی کونسل مناسب وقت پر کرے گی۔ انھوں نے بیس ستمبر کو ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیئو کے دعوے کے بارے میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کو اب تک دو شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ پابندیاں امریکی وزیر خارجہ کی خیالی دنیا میں ہی بحال ہوں گی۔

ٹیگس