حزب اللہ کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی کابینہ میں شدید اختلافات
حزب اللہ کے میزائل حملوں میں اضافے نے، جسے عبرانی میڈیا نے جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ شدید حملے قرار دیا ہے، کابینہ کے اجلاس کو وزیر خزانہ اور آرمی چیف کے درمیان زبانی جھڑپ میں تبدیل کر دیا ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: حالیہ دنوں میں حزب اللہ کے میزائل حملوں کی شدت میں اضافے کی وجہ سے صیہونی حکومت کے فیصلہ ساز اداروں میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی چینل 12 نے جمعرات کو اعتراف کیا ہے کہ لبنان سے حالیہ میزائل حملے جنگ کے آغاز کے بعد سے حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے شدید ترین حملے ہیں۔ اسی دوران اسرائیلی کابینہ کا اجلاس وزیر خزانہ اسموتریچ اور آرمی چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کے درمیان زبانی تصادم کی نذر ہوگیا۔
اسموتریچ نے اجلاس میں اسرائیلی فوجی حکام پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ "آپ شمال میں پسپائی اختیار کر رہے ہیں، حزب اللہ ہمارا انتظام کر رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ مکمل جنگ سے خوفزدہ نہ ہوں اور لبنان کے اندر ایک سیکورٹی بیلٹ بنائیں"۔
ضمیر نے، جن کی فوج کو حالیہ دنوں میں شمالی محاذ پر حزب اللہ کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی ہے، جواب میں کہا کہ فوج مکمل جنگ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔
اسرائیلی دہشت گرد حکومت کے ارکان میں یہ تکرار ایسے وقت ہوئي جب چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال ضمیر نے اسی اجلاس میں خبردار کیا تھا کہ اگر افرادی قوت کا بحران حل نہ ہوا تو فوج کو اندرونی طور پر ختم ہوجائے گي۔
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel