Mar ۲۷, ۲۰۲۶ ۱۸:۰۰ Asia/Tehran
  • میناب کے اسکول کا سانحہ کسی صورت قابل جواز نہیں ہے / ناانصافیوں پر خاموشی سے امن قائم نہیں ہوسکتا: ایرانی وزیر خارجہ 

 ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس آئن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا  ہے کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع گرلز پرائمری اسکول شجرہ طیبہ پر حملہ کوئی حادثہ یا غلطی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا جنگی جرم ہے۔

سحرنیوز/ایران: سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس وقت دو ایٹمی حکومتوں امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ ایک غیرقانونی اور ظالمانہ جنگ کا شکار ہے۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور امریکا سفارتی بات چیت کے ذریعے جوہری معاملے پر پیش رفت کررہے تھے، لیکن واشنگٹن نے ایک بار پھر مذاکرات چھوڑ کر ڈیپلومیسی سے غداری کی۔
 ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ شجریہ طیبہ اسکول پر حملے میں 175 طالبہ اور اساتذہ شہید ہوئے، اور یہ کارروائی جدید فوجی ٹیکنالوجی رکھنے والی حکومتوں کی جانب سے سوچا سمجھا اقدام تھا،جو انسانی حقوق اور جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 
عراقچی نے کہا ملک بھر میں 600 سے زائد اسکول تباہ یا متاثر ہوئے، اور 1000 سے زیادہ بچوں اور اساتذہ نے اپنی جام شہادت نوش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں کا نشانہ اسپتال، امدادی کارکن، پانی کے ذخائر اور رہائشی علاقے بھی بن رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان واقعات کو صرف جنگی جرائم کہنا کافی نہیں، بلکہ یہ نسل کشی پر مبنی ظالمانہ اقدامات کی واضح نشانیاں ہیں۔
سید عباس عراقچی نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ ان جرائم کو کھل کر مذمت کی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے تحت سزا دی جائے کیونکہ خاموشی مزید ناانصافی اور عدم استحکام کو جنم دے رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ایک امن پسند مگر پرعزم قوم ہے، جو اپنی سرزمین اور شہریوں کا دفاع پوری طاقت سے کرے گی۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس