Feb ۱۰, ۲۰۲۱ ۰۵:۰۰ Asia/Tehran
  •   اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ تاریخ کے آئینے میں

اس سال بائیس بہمن مطابق دس فروری 2022 اسلامی انقلاب کی کامیابی کی تینتالیسویں سالگرہ ہے۔ انقلاب کی کامیابی اور انقلاب کے لئے عوام کی قربانیوں کوتینتالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور آج ایران کا انقلاب پوری دنیا کے حریت پسندوں کے لئے ایک اہم سنگ میل, جبکہ سامراجی طاقتوں کے لئے ایک خطرہ اور ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے-

 پہلوی حکومت کے وزیراعظم شاپور بختیار نے تہران کے مشرقی علاقے میں اسلحہ سازی کے کارخانے اور فضائیہ کی چھاؤنی پر بمباری کا حکم دے دیا تھا لیکن آخری لمحے میں یہ کارروائی روک دی گئی۔

٭تینتالیس سال قبل اسی دن آٹھ بجے صبح اسلحہ سازی کے کارخانے پر عوام نے اپنا کنٹرول کرلیا تھا۔

٭ تہران کی بیشتر سڑکوں پر شاہی فوج کے اہلکاروں اور عوام کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر تھی۔

٭ کئی شہروں کے فوجی دستے منجملہ قزوین کی بکتر بند بریگیڈ تہران کی جانب روانہ کردی گئی تھی - عوام نے فوجی دستوں کو تہران میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے تہران - کرج شاہراہ کو بند کردیا تھا۔

٭ پچھلے چند روز سے جاری لڑائیوں کی وجہ سے فورنزیک ڈیپارٹمنٹ، یا پوسٹ مارٹم کی عمارت شہدا کے جنازوں سے اٹ گئی تھی یہ وہ جنازے تھے جن کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔ ٭ فوج کے ساز وسامان ، اوین جیل خانے، ساواک کی عمارت، سینیٹ اور پارلیمنٹ کی عمارتوں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن، وزارت عظمی کے دفتر ملیٹری اور پولیس کے ہیڈ کوارٹر پرعوام کا کنٹرول ہوچکا تھا۔

٭ شاہی حکومت کی خفیہ تنظیم ساواک کے سربراہ نصیری ، کردستان کے شہریوں کے قاتل سالارجاف اور تہران کے فوجی گورنر جنرل رحیمی کو انقلابیوں نے گرفتار کرلیا تھا۔ بری فوج کا کمانڈر جنرل بدرہ ای اور شاہی گارڈ کے دو اسسٹنٹ کمانڈر محمد امین اور بیگلری کو ہلاک کیا جاچکا تھا۔

٭ اسی دن ساڑھے دس بجے صبح فوج کی اعلی کونسل نے چیف آف جنرل اسٹاف، وزیرجنگ اور سبھی اعلی فوجی کمانڈروں کی شرکت سے ایک اجلاس تشکیل دیا اور پھر طویل مذاکرات کے بعد فوج کی اعلی کونسل نے سیاسی تنازعات میں اپنی غیر جانبداری کا اعلان کردیا۔

٭ انقلابی حکومت کے عبوری وزیراعظم مہدی بازرگان نے عوام اور خاص طور پر فوج کے غیرجانبدار رہنے پر مبنی اعلان پر فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قرہ باغی نے مجھ سے ملاقات کے دوران انقلابی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔

٭ بختیار اپنا استعفی مہدی بازرگان کو پیش کرنے والا تھا لیکن تقریبا دوبجے دن میں وزارت عظمی کے دفتر کا محاصرہ ہوجانے اور سینتیس روز تک شاہی حکومت کا وزیراعظم رہنے کے بعد خفیہ طریقے سے ایران سے فرار ہوگیا۔

٭ تینوں مسلح افواج  کے کمانڈروں نے امام خمینی کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا اپنا استعفا پیش کردیا۔

٭ مسلح گروہوں نے امام خمینی کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اپنی وفاداری کا اعلان کردیا۔

 ٭ آیت اللہ سید شہاب الدین مرعشی نجفی اور آیت اللہ شیرازی نے ایرانی عوام کے نام الگ الگ بیان جاری کرکے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی مبارکباد پیش کی۔

٭ نجف اشرف میں بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی خوئی نے امام خمینی کو ایک ٹیلی گرام ارسال کرکے ایران واپسی پر انہیں مبارکباد پیش کی-

٭ شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد یاسرعرفات نے امام خمینی کو مبارکبادی کا پیغام ارسال کیا۔

٭ انقلاب کے واقعات اتنی تیزی کے ساتھ رونما ہورہے تھے کہ حتی امریکی حکام کو آخری دنوں میں یہ معلوم ہی نہیں ہو پایا کہ انقلاب کب کامیاب ہوگیا۔ چنانچہ وائٹ ہاؤس میں قائم آپریشنل روم میں برژنیسکی کی طرف سے ٹیلی فون پر تہران میں امریکی سفیر سالیوان سے پوچھا گیا کہ کیا ابھی بھی بغاوت کا کوئی امکان موجود ہے؟

٭٭٭٭٭ ریڈیو کے اناؤنسر کی آواز۔ اس نے اس انداز میں کامیابی کا نغمہ ایرانی عوام کو پڑھ کرسنایا۔ توجہ توجہ یہ ایرانی عوام کے انقلاب کی آواز ہے۔ امام خمینی کی قیادت میں ایرانی عوام کے اسلامی انقلاب نے ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہی نظام کو سرنگوں کردیا۔

 
٭ امام خمینی نے عوام کے نام اپنے ایک اورپیغام میں فرمایا : آپ لوگ اس بات پر توجہ رکھیں کہ  دشمن پر کامیابی کے لحاظ سے ہمارا انقلاب ابھی پوری طرح سے مکمل نہیں ہوا ہے۔ دشمن کے  پاس طرح طرح کے وسائل وذرائع ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے سازشیں کرے گا۔ صرف ہوشیاری، انقلابی نظم و ضبط ، قیادت اور عبوری اسلامی حکومت کے احکامات کی پیروی کے ذریعے ہی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے گا۔ عبوری اسلامی حکومت کے ساتھ آپ لوگ تعاون کیجئے تاکہ اللہ کی مدد ونصرت اور ایک دوسرے کے تعاون سے ایک آزاد اور آباد اسلامی ایران کو پوری دنیا کے لئے قابل رشک بنا دیں۔

 

ٹیگس