Aug ۳۱, ۲۰۲۵ ۰۹:۵۲ Asia/Tehran
  • یمن پر اسرائیلی جارحیت، ایران کی وزارتِ خارجہ کا سخت ردِعمل

ایرانی وزارت خارجہ نے یمن پر صہیونی حملے میں وزیراعظم اور دیگر وزراء کی شہادت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سحرنیوز/ایران: ایرانی وزارت خارجہ نے یمن کے خلاف صہیونی غاصب حکومت کی تازہ دہشت گردانہ کارروائی کو شدید ترین الفاظ میں مذمت کیا ہے، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم احمد غالب ناصر الرہوی اور ان کے کئی وزراء شہید ہوگئے۔

 وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے یمن کے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے اور یمنی اعلی حکام و عام شہریوں کی بزدلانہ ٹارگٹ کلنگ نہ صرف کھلی جنگی جنایت اور انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ یہ جعلی حکومت اس قوم سے انتقام لے رہی ہے جو فلسطین کی مظلوم عوام کی حمایت میں ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردانہ حملے اور یمنی قیادت کی شہادت سے یمن کی حریت پسند اور شجاع قوم کے عزم و ارادے متزلزل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے برعکس امت مسلمہ اور عالمی رائے عامہ میں صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں بالخصوص امریکہ کے خلاف نفرت اور غیظ و غضب میں مزید اضافہ ہوگا۔

ایران نے شہید یمنی وزیر اعظم اور دیگر شہداء کے لواحقین کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے عالمی برادری اور بالخصوص اقوام متحدہ کو متنبہ کیا کہ وہ اس سنگین جرم کے سامنے خاموشی اختیار نہ کرے۔

وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی بے عملی اور دوہرے معیارات عالمی قوانین اور اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں جس سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں امن و سلامتی شدید خطرے میں ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ عالمی برادری پر یہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی اور یمن میں صہیونی دہشت گردی کو روکے، فلسطینی عوام پر مسلط قحط اور محاصرے کے خاتمے کے لیے فوری اقدام کرے اور صہیونی سیاسی و فوجی رہنماؤں کو ان کے جنگی جرائم پر عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں لائے۔

ٹیگس