شام کے سیاسی بحران کے حل سے پہلے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے
Sep ۱۷, ۲۰۱۵ ۲۰:۵۵ Asia/Tehran
شام کے وزیر خارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، بحران شام کے سیاسی حل میں داخل ہونے کا راستہ ہے-
لبنان کی النشرہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے جمعرات کو شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی میسٹورا سے ملاقات میں کہا کہ اس ملک کے سیاسی بحران کا حل شروع کرنے کے لئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ترجیح رکھتی ہے اور اس سے امن و استحکام تک پہنچنے کے سلسلے میں ملت شام کے مطالبات پورے ہو جائیں گے-ولید المعلم نے متحارب فریقوں کے درمیان صلاح و مشورے کی ضرورت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں میں اضافے اور دہشت گرد گروہوں کے حامی ممالک کو دہشت گردوں کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کرنے پر تاکید کی-
شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی میسٹورا نے بھی اس ملاقات میں شام کے بارے میں اپنے منصوبوں کے سلسلے میں کئے جانے والے سوالوں کے جواب دیے- شام کے بحران کے حل کے لئے ڈی میسٹورا کا منصوبہ تین مرحلوں ، مذاکرات، عبوری مرحلے اور حکومت کی تشکیل پر مشتمل ہے-
اس منصوبے میں ایک خود مختار عبوری کابینہ اور ایک مشترکہ فوجی کونسل تشکیل پائے گی جو مخالفین کے جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گی- یہ فوجی کونسل، شام کے سیکورٹی اداروں کی اصلاح کے عمل پر نگرانی کرے گی- ڈی میسٹورا شام میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار کرنے اور ایک پارلیمنٹ قائم کرنے کی غرض سے قومی کانگریس کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کریں گے-