انتفاضہ قدس کے شہداء کی لاشیں تحویل میں لینے کے لئے صیہونیوں کی نئی شرطیں
صیہونی حکومت کے نئے وزیر جنگ کے اس فیصلے کےبعد کہ فلسطینی شہداء کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو نہ دی جائیں ، صیہونی حکومت نے کچھ اور بھی شرطیں عائد کی ہیں-
فلسطین الآن ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کی شہادت پسندانہ کارروائیاں جاری رہنے کے سبب، سیاسی اور سیکورٹی کی مشکلات میں شدت پیدا ہونے کے بعد صیہونی حکومت نے نیا قدم اٹھاتے ہوئے انتفاضہ قدس کے شہداء کی لاشوں کو ان کے وطن یا جائے پیدائش میں دفن کرنے، اور شہداء کے جلوس جنازہ میں دو سو سے زیادہ افراد کی شرکت پر پابندی لگا دی ہے-
صیہونیوں کے اس نئے فیصلے کے مطابق ہر اس خاندان کو جو اپنے شہید کی لاش تحویل میں لینا چاہتا ہو اس بات پر رضامندی ظاہر کرنی پڑے گی کہ اسے اس کے وطن یاجائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور دفن کیا جائے گا ورنہ پھر شہید کاجنازہ اس کے اہل خانہ کو نہیں ملے گا -
واضح رہے کہ صیہونی حکومت کے وزیر جنگ آویگڈر لیبرمین نے جمعرات کو کہا ہے کہ ان فلسطینیوں کی لاشوں کو، جو اسرائیل مخالف کارروائی میں مارے جائیں گے، ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا-
صیہونی حکومت نے یہ فیصلہ اس شہادت پسندانہ کارروائی کے بعد سنایا ہے کہ جس میں دو فلسطینی جوانوں نے تل ابیب میں چار اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا- اویگڈر لیبرمین نے وزارت جنگ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد فلسطینیوں کے تعلق سے اپنا یہ پہلا فیصلہ سنایاہے-
صیہونی حکومت نے اکتوبر دوہزار پندرہ میں تحریک انتفاضہ کے آغاز سے ہی ، صیہونیت مخالف کارروائیوں میں کمی لانے کی امید سے فلسطینیوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو نہ دینے کا فیصلہ سنایا ہے لیکن صیہونی حکومت کے اس اقدام سے فلسطینیوں کی شہادت پسندانہ کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے-