دہشت گرد گروہ ایم کے او کے لئے سعودی عرب کی کھلی حمایت
سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف نے ایران کے خلاف گروہ منافقین کی کھلی حمایت کرتے ہوئے اس دہشت گرد گروہ کے لئے ریاض کی بھرپور حمایت کا اعلان اور منافقین کے تمام جرائم کو بھی قانونی قرار دیا ہے۔
فرانس کا دارالحکومت پیرس، جو حالیہ چند برسوں کے دوران کئی بار دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنا ہے، آجکل منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او کے سالانہ اجلاس کا میزبان ہے۔
سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے دہشت گرد گروہ، ایم کے او کی کھلی حمایت کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ریاض اس دہشت گرد گروہ کی حمایت جاری رکھے گا اور وہ اس گروہ کے جرائم کو بھی قانونی سمجھتا ہے۔
ترکی الفیصل نے منافقین کے پیرس اجلاس میں اس گروہ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کامیابی کے لئے سعودی عرب کی ہمہ جہتی حمایت کا بھی یقین دلایا ہے۔
ایم کے او جیسے دہشت گرد گروہ کے لئے سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ کا یہ بیان، اس بات کو بخوبی ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب، دہشت گردی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں کے اعتراف کے مطابق وہابی، تکفیری اور انتہا پسندانہ نیز دہشت گردانہ افکار کے مکتب اور اسی طرح دہشت گرد گروہوں کی مالی و فوجی حمایت کے مرکز کی حیثیت سے سعودی عرب، علاقے اور پوری دنیا میں دہشت گردی کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
تقریبا ایک سال قبل بھی پیرس میں ہی سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ ترکی الفیصل کی شرکت سے ایم کے او گروہ کا اجلاس تشکیل پایا تھا۔
ایم کے او نامی منافقین کے دہشت گرد گروہ نے امریکہ و اسرائیل کی حمایت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے کئی جوہری سائنسدانون کا قتل بھی کیا ہے۔
اس دہشت گرد گروہ نے سنہ انّیس سو اناسی سے اکیاسی کے دوران ایران میں کئی انقلابی شخصیات اور حکام نیز عوام کا قتل عام کیا اور تمام دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
اٹھّائیس جون سنہ انّیس سو اکیاسی کو حزب جمہوری اسلامی کے مرکزی دفتر میں بم دھماکہ، وزارت عظمی کے دفتر میں بم دھماکہ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جولائی سنہ انّیس سو اٹھّاسی میں مسلحانہ اقدام، اپریل سنہ انّیس سو بانوے میں دنیا کے تیرہ ملکوں میں ایران کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر ایک ساتھ حملے، بیس جون سنہ انّیس سو چورانوے کو مشہد مقدس میں فرزند رسولۖ حضرت امام علی رضا(ع) کے روضہ اقدس میں بم دھماکہ، کہ جس میں پچّیس افراد شہید اور ستّر دیگر زخمی ہوئے، اس دہشت گرد گروہ کے ایسے وحشیانہ اقدامات ہیں جو امریکہ ، فرانس اور اس گروہ کے بعض دیگر حامیوں کی حمایت سے انجام پائے۔
اس دہشت گرد گروہ کا نام،چند سال قبل تک یورپی یونین اور امریکہ کی دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل تھا مگر امریکہ نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس گروہ کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے خارج کر دیا اور پھر اس دہشت گرد گروہ کی کھل کے بھرپور حمایت شروع کر دی۔