Sep ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۷:۲۹ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کے شہر  العوامیہ کے شیعہ محلے المسورہ کو مسمار کردیا گیا

سعودی حکومت کے کارندوں نے مشرقی شہر العوامیہ کے شیعہ آبادی والے محلے المسورہ کے سبھی مکانات کو منہدم کردیا ہے۔

سعودی عرب کے الشرقیہ علاقے کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ محمد بن عبدالعزیز الصفیان نے کہا ہے کہ العوامیہ کے محلے المسورہ میں سبھی چار سو اٹھاسی مکانات کو منہدم کردیا گیا ہے۔
المسورہ محلے کے شیعہ مسلمان اپنے مکانات منہدم کردیئے جانے کے بعد دربدری کی زندگی بسر کررہے ہیں۔
سعودی عرب کا دعوی ہے کہ وہ المسورہ محلے کے مکانات کو اس لئے منہدم کررہا ہے تاکہ اس علاقے کی نئے سرے سے تعمیر کی جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ المسورہ محلہ جو شہید آیت اللہ شیخ باقر نمر کا آبائی وطن ہے سعودی حکومت کی تفریق آمیز پالیسیوں کے خلاف تحریک کی علامت بن چکا ہے۔
عوام کو فریب دینے والا سعودی حکومت کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب العوامیہ علاقے کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ سعودی سیکورٹی اہلکاروں نے انتہائی وسیع پیمانے پر شیعہ مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔
سعودی عرب میں دس سے پندرہ فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں کی ہے جن میں زیادہ تر الشرقیہ کے علاقے میں آباد ہیں۔  
یہ علاقہ سعودی عرب کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنےوالا علاقہ شمار ہوتا ہے۔
اس علاقے کے باشندے حکومت کی ناانصافی اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف دوہزار گیارہ سے پر امن تحریک چلارہے ہیں۔
اس علاقے کے شہری سبھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ آزادی اظہار رائے کا بھی حق مانگ رہے ہیں۔
سعودی عرب کے الشرقیہ علاقے کے باشندوں کا کہنا ہےکہ ان کےساتھ حکومت کا تفریق آمیز رویّہ ختم ہونا چاہیے۔۔
سعودی حکومت سیاسی مخالفین کے محلوں کو ویران کرکے عملی طور پر ان کے جینے کے حق کو بھی چھین لینا چاہتی ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی حکومت نے بھی سعودی عرب جیسی سخت گیر حکومتوں کے لئے اپنی حمایتی پالیسی جاری رکھتے ہوئے ایسی حکومتوں کے جرائم اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لئے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
اس قسم کے تشدد پسند اقدامات کے باوجود کچھ ہی عرصے قبل سعودی عرب اپنے مغربی حامیوں منجملہ امریکا اور برطانیہ کی مدد سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ممبر بھی بن گیا ہے۔
بلاشبہہ اقوام متحدہ کے اس طرح کے متضاد رویّوں کا نتیجہ اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں نکلا ہے کہ سعودی حکومت انسانی حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے میں پہلے سے بھی زیادہ گستاخ ہوگئی ہے۔
سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے محلے کو مسمار کردینے پر مبنی سعودی حکومت کا اعلان اور اقدام اسی بنا پر انجام پارہا ہے کہ آل سعود کو اس بات کا پورا اطمینان ہے کہ عالمی اداروں منجملہ اقوام متحدہ کے قانونی ادارے کی جانب سے اس سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔

ٹیگس