Jan ۲۵, ۲۰۱۸ ۱۶:۴۳ Asia/Tehran
  • قطر کے بعد سعودی عرب کویت تعلقات میں کشیدگی

کویت کے نائب وزیر خارجہ نے ایک سعودی عہدیدار کی جانب سے اپنے ملک کے وزیر تجارت و صنعت کی توہین پر سخت احتجاج کیا ہے۔کویتی عہدیدار کے بارے میں سعودی شاہی دربار کے مشیر کے اہانت آمیز بیان پر سوشل میڈیا میں زبردست ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

کویت کے نائـب وزیر خارجہ خالد جاراللہ نے اپنے ملک میں متعین سعودی سفیر عبدالعزیز الفائز کے ساتھ ملاقات کر کے سعودی شاہی دربارکے مشیر کی جانب سے کویتی وزیر تجارت و صنعت خالدالروضان کی توہین پر احتجاج اور شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
سعودی شاہی دربار کے مشیر ترکی آل شیخ نے کویت کے وزیر تجارت و صنعت خالدالروضان کے دورہ قطر اور اس ملک کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ملاقات پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔
کویتی عہدیدار کے بارے میں سعودی شاہی دربار کے مشیر کے اہانت آمیز بیان پر سوشل میڈیا میں بھی زبردست ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا کے کویتی صارفین نے سعودی عہدیدار کے اس اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر صنعت خالد الروضان نے سرکاری نمائندے کی حثیت سے قطر کا دورہ کیا تھا لہذا ان پر حملہ گویا کویتی حکومت اور حکام پر حملہ ہے۔
کویتی صارفین کا خیال ہے کہ سعودی شاہی دربار کے مشیر، کویت سعودی عرب سفارتی تعلقات اور اسی طرح دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائے جانے والے رابطوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نبا نیوز کے مطابق سعودی دربار کے مشیر کی کویتی عہدیدار پر نکتہ چینی کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور اس میں مزید شدت کا امکان ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب سے شائع ہونے والے روزنامہ عکاظ کے چیف ایڈیٹر جمیل الذیابی نے بھی خلیج فارس کے بحران میں کویت کے ثالثانہ کردار پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔
 سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے پانچ جون دو ہزار سترہ کو بیک وقت قطر کے ساتھ اپنے سفارت تعلقات توڑ نے کے علاوہ دوحہ کے ساتھ تمام زمینی، فضائی اور سمندری رابطے منقطع کر لیے تھے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں نے قطر پر عرب کاز سے انحراف اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا جسے قطر سختی کے ساتھ مستر کرتا ہے۔

ٹیگس