Jan ۲۹, ۲۰۱۸ ۱۹:۵۴ Asia/Tehran
  • جنوبی یمن میں سعودی عرب اور امارات کے حامی مسلح گروہوں میں گمسان

جنوبی یمن کے شہر عدن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سو سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہو گئے۔

جنوبی یمن میں اسپتال کے ذرائع  کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اتحادی مستعفی صدر منصور ہادی سے وابستہ فوجیوں اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم دس افراد ہلاک اور تقریبا سو دیگر زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہےکہ عدن کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد تعینات ہو گئے ہیں اور اس ساحلی شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
جنوبی یمن کی انقلابی تحریک کے سیاسی دفتر کے سربراہ مدرم ابوسراج نے کہا ہے کہ شہر عدن کی سیکورٹی کی صورت حال بحرانی ہونے کی اصل وجہ متحدہ عرب امارات ہے۔
عدن میں سعودی عرب کے اتحادی مستعفی صدر منصور ہادی سے وابستہ فوجیوں اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے شدت اختیار کر جانے کے بعد ریاض نے اپنے حمایت یافتہ فوجیوں کے لئے امداد بڑھا دی ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کی حکومت کے لئے امداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
دریں اثنا متحدہ عرب امارات نے شہر عدن پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اس شہر میں اپنے حمایت یافتہ فوجیوں کے لئے جنگی ساز و سامان ارسال کر دیا ہے۔
 اثنا متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی یمن کی عبوری کونسل نے یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کو احمد عبید بن دغر کی حکومت ختم کرنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔
المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی یمن کی عارضی کونسل کے چیئرمین جنرل عیدروس الزبیدی سے وابستہ فوج نے کہ جسے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے، جنوبی یمن میں اس ملک کے مستعفی صدر منصور ہادی سے وابستہ ایک فوجی مرکز پر قبضہ کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی یمن میں عبوری کونسل مئی دو ہزار سترہ میں متحدہ عرب امارات کی حمایت سے بنی تھی جس کا ایک مقصد جنوبی یمن کو شمالی یمن سے علیحدہ کرنا ہے جہاں متحدہ عرب امارات کی زیرحمایت حکومت کا قیام عمل میں لانا ہے جو سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمن کے مستعفی صرد منصور ہادی کی حکومت کے مقابلے میں ہو گی اور اس طرح یہ صورت حال آئندہ چند روز میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان سخت معرکہ آرائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یمن کا بحران 2015 میں اس ملک پر سعودی عرب کے حملے کے وقت سے شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے اور تقریبا تین سال کی اس مدت میں اکیس ہزار سے زیادہ یمنی شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ حملے یمن کے عوام کے قتل عام کے علاوہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات کی بھی ویرانی اور تباہی و بربادی کا باعث بنے ہیں۔

ٹیگس