منتظران امام مہدی (عج) نے منایا جشن
پاکستان اور ہندوستان اور اسی طرح ان ملکوں کے زیر انتظام کشمیر میں حضرت امام مہدی (عج) کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع پر مساجد، امام بارگاہوں اور سڑکوں کو خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا اور شاندار طریقے سے چراغانی کی گئی۔
کرہ ارض پر ہمہ گیر اسلامی انقلاب اور نظام عدل کے نقیب حضرت ولی عصر امام مہدی (عج) کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع پر پاکستان و ہندوستان اور اسی طرح ان ملکوں کے زیر انتظام کشمیر خاص طور سے اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جشن میلاد منایا گیا اور خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں اس سلسلے میں پُررونق محافل کا انعقاد ہوا۔
اس موقع پر علماء نے ظہور ولی عصر (عج) کے حوالے سے ملت کی ذمہ داریوں اور آمادگی کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔
علماء کرام نے اپنے خطاب میں امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے انتظار کے حوالے سے منتظران پر عائد ذمہ داریوں سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مفہوم انتظار پر بحث کرتے ہوئے انقلاب مہدی کے خدوخال اور اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے ظہور امام زمانہ (عج) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی مظلوم و محکوم قوموں کے لئے ایک بے بدل تحفۂ الٰہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کی مظلوم و محکوم قومیں انتہائی بے کس و بے بس ہوں گی اور ظالم قوتیں، مظلومین پر ظلم و استبداد کے ناقابل برداشت حربے آزمائیں گی تو منجی عالم بشریت کا ظہور پر نور ہوگا۔
اس موقعہ مقررین نے کہا کہ تصور مہدی اگرچہ تمام اسلامی مسالک کا مشترکہ عقیدہ ہے اور ہر مسلمان کا اس بات پر ایمان کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو دنیا کے دیگر ادیان پر غالب فرمائے گا اور جو لوگ زمین پر کمزور ہیں انہیں روئے زمین کا وارث بنایا جائے گا۔ اس بشارت الٰہی کے تکمیل کار حضرت ولی عصر ہیں اور حضرت مہدی (عج) کا ظہور بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ظلم کے آگے سرجھکانا ایک مذموم عمل ہے ۔
علماء نے آخر میں حاضرین کو اس دن کی مبارک باد دیتے ہوئے دعائیں کی کہ خداوند کریم ہمارے اعمال قبول کرے اور امام کے ظہور میں تعجیل فرما۔