سعودی عرب کی سر زمین اسرائیل کے حوالے
Jul ۳۰, ۲۰۱۸ ۱۲:۴۰ Asia/Tehran
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے تبوک کے علاقے میں اپنی سرزمین کا 16 ہزار مربع کیلومیٹر کا علاقہ اسرائیل کو دیدیا تا کہ اسرائیل اس علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کا گودام بنائے اور یہاں بحری اور بری فوجی مشقیں کر سکے۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے کہا ہے کہ تبوک کا علاقہ ممنوعہ علاقہ تھا اس لئے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین فوجی مقاصد اور باہمی تعاون کیلئے استعمال کیا جائیگا اور اس کے قریب 500 ارب ڈالر کی لاگت سے نیوم کے نام سےایک نیا شہر بسایا جائیگا۔ سعودی عرب نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اس ممنوعہ علاقے کے شہروں شرما، مویلح اور ضبا کو خالی کرایا جائیگا۔
سعودی عرب اس قسم کے اقدامات سے در اصل رائے عامہ کو اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین مکمل روابط اور تعلقات کی برقراری کیلئے ھموار کرنا چاہتا ہے۔