شام کی طاقت کا مظاہرہ، ترکی نے ہتھیار ڈالے
شام نے منبج شہر میں اپنی فوج بھیج کر سارے اندازوں پر پانی پھیر دیا۔
شامی فوج جمعے کے روز کرد آبادی والے شہر منبج میں داخل ہوئی تھی۔ ترک حکومت نے پہلے تو ان خبروں کی تردید کی کہ شامی فوج منبج میں داخل ہو گئی ہے تاہم بعد ازاں صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ کرد آبادی والے علاقوں میں شامی فوج کی تعیناتی پر ترکی کو کوئی اعتراض نہیں۔
امریکی فوج کے انخلا کے بعد منبج شہر میں شامی فوج کی تعیناتی کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس علاقے پر دمشق حکومت کا کنٹرول بحال ہو گیا ہے اور اس کا فائدہ صدربشاراسد کو پہنچے گا۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر دہشت گرد گروہ منبج سے باہر نکل جائیں تو پھر انقرہ کو اس شہر سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، منبج اور کرد آبادی والے دیگر شہروں میں فوجی آپریشن کے آغاز میں جلد بازی سے کام نہیں لے گا۔ صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر، ہم شام کی ارضی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، یہ علاقے شام کا حصہ ہیں اور دہشت گردوں کے نکلتے ہی ان علاقوں میں ہماری تمام سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔