Dec ۲۲, ۲۰۱۹ ۰۶:۵۹ Asia/Tehran
  • کیا سعودی عرب، ایران کے خوف سے اسرائیلی بندرگاہ سے اپنا تیل فروخت کر رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

الخلیج الجدید نے لکھا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان نزدیکی کی خبریں موصول ہو رہی تھیں کیونکہ ان دونوں کو یہ لگتا تھا کہ ایران کے سامنے ٹرمپ کی کمزوری ان کے لئے تشویش کا باعث ہے۔

یہی سبب ہے کہ دونوں ہی ایران کے ایٹمی معاہدے کے مخالف تھے اور دونوں کا ہی خیال تھا کہ ایران کے خلاف سخت اقدامات ہونے چاہئے۔ ان سب کے باوجود اسرائیل، ایران و سعودی عرب کے درمیان تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہونا چاہتا، اس کا سبب بھی واضح ہے، اسرائیل کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس نے سعودی عرب اور ایران کے تنازع میں شرکت کی تو اسے اس تنازع سے کچھ فائدہ ملنے کی امید بہت کم ہے لیکن نقصان ہونے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔

فرانک میزمار نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ خلیج فارس کی حکومتیں جو سعودی عرب کی اتحادی ہیں، یہ چاہتی ہیں کہ واشنگٹن علاقے پر ذرا زیادہ توجہ دے -

 ریاض کے سامنے سب سے بڑا چیلنج، اس کے رہنماؤں کی خراب ہوتی شبیہ ہے ۔ بن سلمان، سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں پوری دنیا میں بدنام ہو چکے ہیں اور جنگ یمن کی وجہ سے پوری دنیا میں سعودی عرب کی سخت مذمت ہو رہی ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب کے پاس ایک کارڈ، اسرائیل کے حوالے سے نرم رویہ ہے جس کے سہارے وہ واشنگٹن میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔

جاری...

* سحر عالمی نیٹ ورک کا مقالہ نگار کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس