Jun ۲۷, ۲۰۲۱ ۲۲:۱۶ Asia/Tehran

افغانستان کے حالات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، جہاں طالبان روزانہ نئے علاقوں پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں وہیں طالبان کے خلاف عام لوگوں نے بھی ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور حکومتی فورس کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کر رہے ہيں۔  

موصولہ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ سمنگان کے عوام نے بھی طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے ہیں۔

سمنگان کی صوبائی کونسل کے سربراہ راز محمد موحدی نے بتایا کہ صوبے کے درہ صوف ضلع کے دو ہزار افراد نے ہتھیار اٹھا لئے ہیں اور وہ طالبان کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے ہیں۔

در ایں اثنا سمنگان صوبے کے پولیس ترجمان عبدالمنیر رحیمی نے بھی کہا ہے کہ درہ صوف کے افراد کا سنیچر کو طالبان کے ساتھ تصادم ہوا جس میں 30 طالبان ہلاک جبکہ دس ديگر زخمی ہوئے۔

دو ہفتے پہلے سمنگان صوبہ کے اس ضلع پر طالبان کا قبضہ تھا اور اب تک یہ ضلع اسی گروہ کے قبضے میں تھا۔ اب تک افغانستان کے متعدد اضلاع کے دسیوں ہزار افراد طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے ہیں اور وہ طالبان کے قبضے سے متعدد علاقوں کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان نے افغانستان کے 80 سے زیادہ اضلاع پر قبضہ کر رکھا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبہ وردک کے سید آباد اور چک، قندھار صوبے کے معروف اور غروق نیز تخار صوبے کے رستاق ضلع پر طالبان گروہ کا قبضہ ہو گیا ہے۔

ادھر افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں طالبان کے خلاف فضائیہ کے آپریشن کو دکھایا گیا ہے۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں 

ہمیں انسٹاگرام پر فالو کریں 

ہمیں ٹویٹر پر فالو کريں 

ٹیگس