عوامی محاذ آزادی فلسطین کے سربراہ احمد جبریل انتقال کرگئے
احمد جبریل کی وفات پر حزب اللہ کا اظہار افسوس
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عوامی محاذ آزادی فلسطین کے بانی شام کے دارالحکومت دمشق کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
احمد جبریل 1938 میں فلسطین کے شہر یافا میں پیدا ہوئے اور 1948 ميں اپنے والدین کے ہمراہ جبری طور پر شام مہاجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔
انہوں نے 1956 میں مصر کے کیڈٹ کالج میں داخلہ لیا اور 1959 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد شام کی فوج میں کمیشن آفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے۔
احمد جبریل نے اس کے ساتھ ہی شام میں مقیم فلسطینی مہاجرین کے ساتھ مل کر اپنی خفیہ سرگرمیوں کا آغاز کیا اور سرانجام عوامی محاذ آزادی فلسطین کی بیناد رکھی۔
1963 میں شام کے اس وقت کے وزیراعظم " امین الاسد" کے ساتھ اختلاف کے سبب انہوں نے فوج سے استعفی دیدیا اور محاذ آزادی فلسطین کی قیادت سنبھال لی۔
شام میں بیرونی طاقتوں کے ایما پر شروع ہونے والے بحران کے دوران احمد جبریل نے دہشت گردوں کے مقابلے میں استقامتی محاذ اور شام کی مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیا۔
احمد جبریل اسلامی انقلاب اور بانی انقلاب اسلامی سے بہت متاثر تھے امام خمینی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ " سید روح اللہ خمینی نے عالم اسلام کو بیدار کرکے مسلمانوں کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔
احمد جبریل کی وفات کی خبر نشر ہونے کے بعد حزب اللہ لبنان نے ان کی وفات پر اپنے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔