پاکستان کے وزیرداخلہ کے بیان پر افغان وزارت خارجہ کی تنقید
افغانستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے کابل کے سفیر کی بیٹی کے اغوا کے بارے میں پاکستانی وزیرداخلہ کا بیان پیشہ ورانہ مہارت کے منافی ہے-
افغان نیوز ایجنسی آوا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے سفیر کی بیٹی کے اغوا کے سلسلے میں پاکستانی وزیرداخلہ کے بیان سے تحقیقات کی شفافیت مشکوک ہوگئی ہے اور اس سے عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا- افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسپتال کی رپورٹ میں محترمہ سلسلہ علی خیل کو روحانی و جسمانی اذیت دینے کا واضح ذکر موجود ہے اور توقع ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے غیرپیشہ ورانہ اظہار خیال سے اجتناب کیا جائے گا اور اس کے عوض ثبوتوں کے حصول ، تحقیقات کی تکمیل اور ذمہ داروں پر مقدمہ چلانے نیز انھیں قرار واقعی سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی ۔
افغان وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل دوطرفہ وفود کے درمیان تعاون کے ذریعے تحقیقات کے عمل میں ہمہ گیر تعاون کی پابند ہے تاکہ واقعے کی وجوہات اور دونوں ملکوں کے وفود کے ثبوتوں کی بنیاد پر تحقیقات کے نتائج سامنے آسکیں ۔
پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو اسلام آباد سے اغوا نہیں کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں انجام پانے والی تحقیقات جلد ہی مکمل ہو جائیں گی۔حکومت افغانستان نے سولہ جولائی کو تصدیق کی تھی کہ اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو اغوا کیا گیا اور چند گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد رہا کردیا گیا ہے ۔افغانستان نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو جلد سے جلد گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔