طالبان کی راہیں آسان نہيں، نئے محاذ کی تشکیل کا فیصلہ
افغانستان کے کچھ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے طالبان سے مذاکرات کے لئے نیا محاذ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی نے روئٹرز کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنرل عبد الرشید دوستم سمیت افغانستان کے متعدد رہنما طالبان سے مذاکرات کے لئے اتحادی محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ چاہتا ہے کہ افغانستان کی اگلی حکومت کے بارے میں طالبان سے مذاکرات کے لئے نیا محاذ تشکیل دیا جائے۔
اس نئے محاذ میں عطا محمد نور کے بیٹے خالد نور بھی شامل ہيں۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نئے محاذ میں جنرل عبد الرشید دوستم اور وہ تمام افراد شامل ہيں جو افغانستان پر طالبان کے تسلط کے مخالف ہيں۔
خالد نور کا اس بارے میں کہا تھا کہ ہم ترجیح دیتے ہیں کہ منظم اور وسیع پیمانے پر مذاکرات انجام دیں، کیونکہ افغانستان کا یہ مسئلہ، کسی ایک شخص کی وجہ سے حل نہيں ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ ملک کی تمام سیاسی برادری کے لئے مہم ہے کہ سبھی گفتگو میں شریک ہوں۔
بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور اور جنرل دوستم جو کئی عشروں سے افغان جنگ کے طاقتور رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، دونوں ہی مزار شریف پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک سے فرار ہیں۔
عطا محمد نور کا کہنا تھا کہ طالبان عوامی مزاحمت کے سامنے ٹک نہيں پائیں گے اور افغانستان میں کوئی بھی گروہ طاقت کے زور پر حکومت نہیں کر سکتا۔