Jan ۱۷, ۲۰۲۳ ۱۰:۱۷ Asia/Tehran
  • آذربائیجان میں صیہونیوں کا اجلاس، تل ابیب سے سازش کا مقدمہ ہے: فلسطینی مزاحمت

فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے آذربائیجان میں ہونے والے صیہونیوں کے اجلاس کے بارے میں اپنے غصہ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ آذربائیجان میں صیہونی ڈپلومیٹوں کا اجلاس خود اس ملک کے فائدے میں نہیں ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے آذربائیجان کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے مطابق آذربائیجان نے اپنے ملک میں صیہونی سیاستدانوں اور ڈپلومیٹس کے ساتھ اجلاس کا فیصلہ کیا ہے۔

العلام المقاوم ٹیلی گرام چینل پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے کہا ہے کہ مزاحمتی گروہ اور ساری فلسطینی قوم آذربائیجانی حکومت کی طرف سے اس اجلاس کی اجازت دینے پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے کیونکہ غاصب صیہونی حکومت کے جرم و جنایت کا سلسلہ فلسطینی ملت اور اسلامی امت پر بدستور جاری ہے۔

فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے مزید اپنے بیان میں کہا کہ آذربائیجانی ملت صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی مخالف ہے۔ یہ صیہونی حکومت خطے میں جو کردار ادار کر رہی ہے وہ نہ صرف فلسطینی ملت کے خلاف ہے بلکہ یہ علاقائی ممالک کے خلاف بھی ہے لہذا صیہونی حکومت، آذربائیجان کےلئے بھی مشکلات پیدا کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے آذربائیجانی ملت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکومت کے اس سازشکارانہ فیصلے کا مقابلہ کریں کیونکہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی کوشش ہے کہ آذربائیجان کو ہمسایہ ممالک کے خلاف جاسوسی، حملوں اور سازشوں کےلئے استعمال کریں اور یہ مسئلہ آذربائیجانی عوام کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

باکو میں غاصب صیہونی حکومت کے تازہ افتتاح شدہ سفارت خانے نے اعلان کیا تھا کہ وہ اوراسیا علاقے میں موجود اپنے سفیروں کا اجلاس اگلے چند دنوں میں منعقد کرے گا جس میں سفیروں کے علاوہ دوسرے اعلیٰ حکام بھی شرکت کریں گے۔

ٹیگس