امریکی حملے کے بعد جزیرہ خارک کی صورتحال پر رپورٹ
جزیرہ خارک کو دشمن کے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملوں کے دوران جزیرے میں 15 سے زیادہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سحرنیوز/ایران: اطلاعات کے مطابق حملوں میں دشمن نے ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام، بحری اڈے جوشن، ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور اور ہیلی کاپٹر ہینگر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد جزیرے سے شدیدئ دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ ان حملوں میں تیل سے متعلق کسی بھی بنیادی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر اس کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود تیل اور گیس کے تمام ڈھانچے، جن میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات وابستہ ہیں، خطرے میں پڑ جائیں گے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد دعویٰ کیا کہ جزیرہ خارک میں تمام فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے دشمن کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ جزیرے کے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، تاہم کچھ ہی دیر بعد دفاعی نظام کی دوبارہ سرگرمی نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔
ٹرمپ اس سے قبل کئی مرتبہ یہ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، لیکن ایران کی جانب سے جاری میزائل اور ڈرون حملوں کی لہر اب 48ویں مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel