اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار: خارک پر حملہ خلیج فارس میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے
اسرائیل کی فوجی انٹیلی جنس میں ایران ڈیسک کے سابق سربراہ ڈینس سیترونوویچ نے جزیرہ خارک پر فضائی حملے کے بعد خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے پورے خلیج فارس میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
سحرنیوز/ایران: انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی صدر نے کچھ اور دعویٰ کیا ہے، لیکن ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز سے مکمل آزادانہ گزرگاہ کی اجازت دے گا، کیونکہ تہران اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ جنگ میں اس کا ایک بڑا اسٹریٹجک دباؤ کا ذریعہ ہے۔
سیترونوویچ کے مطابق اگر امریکہ جزیرہ خارک یا دیگر مقامات پر بڑی تیل تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو اس کے جواب میں ایران ممکنہ طور پر پورے خلیج فارس میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں اکثر ایران کے طرزِ فکر کو درست طور پر نہیں سمجھا جاتا۔ ایران اس صورتحال کو اپنی بقا کی جنگ سمجھتا ہے اور ایسی حالت میں وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کرے گا، جن میں آبنائے ہرمز کو متاثر کرنے کی دھمکی بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ شدید بمباری یا سخت دھمکیوں سے ایران کے فیصلے کو بدلنے کا امکان کم ہے، کیونکہ تہران کے نزدیک عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ ڈالنا ہی وہ طریقہ ہے جس سے امریکہ کو جنگ ختم کرنے کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel