Mar ۰۱, ۲۰۲۳ ۱۶:۴۹ Asia/Tehran
  • سعودی انتظامیہ کے لئے کیوں ہے خطرناک یہ قیدی؟

محمد القحطانی کی قید کی سزا ختم ہوئے تقریباً 100 دن گزر جانے کے بعد بھی سعودی حکام مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں زبردستی حراست میں رکھے ہوئے ہیں۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: انسانی حقوق کے ممتاز کارکن محمد القحطانی کی 10 سالہ سزا کے خاتمے کو تقریباً 100 دن گزر چکے ہیں لیکن سعودی حکام نے انہیں حراست میں ہی رکھ  رکھا ہے۔

العربیہ-21 کے مطابق محمد القحطانی کی سزا گزشتہ نومبر میں ختم ہو گئی تھی لیکن سعودی حکام نے انہیں آخری تاریخ سے ایک ماہ قبل زبردستی لاپتہ کر دیا اور اکتوبر 2022 میں انہیں اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے سے روک دیا گیا۔

اس حوالے سے محمد القحطانی کی اہلیہ مہا القحطانی نے بارہا اعلان کیا ہے کہ محمد کو زبردستی غائب کر دیا گیا ہے۔

ایک سعودی کارکن اور التجمع الوطنی پارٹی کے رکن عبداللہ الجریوی نے اعلان کیا کہ سعودی حکام محمد القحطانی کی سزا ختم ہونے کے باوجود انہیں زبردستی گرفتار کر کے سعودی عرب کے قوانین و ضوابط کے ساتھ تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

عربی-21 کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ محمد القحطانی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جو بہت زیادہ پریشانیاں برداشت کرنے کے باوجود انسانی حقوق کے دفاع اور بدعنوانی کے خلاف مزاحمت کے لیے پرعزم ہیں۔

ٹیگس