اسرائیل کا سعودی عرب سے قربت کا خواب ریت کی دیوار ثابت ہوا
ایران کے بارے میں سعودی عرب کے حالیہ مؤقف اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اسرائیلی تجزیہ کار نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ تل ابیب، ریاض کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: روزنامہ معاریو میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں "گریٹر اسرائیل اسٹریٹجی" سینٹر کے محقق "ایڈی کوہن" نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں تل ابیب کے سیاسی اور سیکورٹی حلقوں میں سرگوشیاں کی جارہی ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا نہ صرف دسترس سے باہر ہے، بلکہ کوسوں دور ہوگیا ہے۔
یہ واضح اعتراف ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام کئی برس سے ریاض کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاملے کو خطے میں ایک "بڑے انعام" اور "گیم چینجر" کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ تل ابیب کے ایوان اقتدار کے مقرب تجزیہ کاروں کے نقطہ نظر مطابق، یہ خواب پہلے سے کہیں زیادہ بکھر چکا ہے۔
اپنے تجزیاتی مضمون میں، ایڈی کوہن نے سب سے پہلے صیہونی حکومت کے نقطہ نظر سے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی پوزیشن کی نئی تعریف کی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ "اعتدال پسند سنی ریاستوں" یا "عرب اعتدال کے محور" جیسے تصورات پر بات کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا کہ اسرائیلی سیاسی لٹریچر سے ان اصطلاحات کو نکال دینا چاہیے کیونکہ وہ ممالک جو کبھی تل ابیب میں ’’اعتدال پسند‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے اب اسرائیلی پالیسیوں کے شدید مخالفین کی صف میں کھڑے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
قطر، سعودی عرب اور عمان کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کار نے دعویٰ کیا کہ یہ ممالک نہ صرف اعتدال پسند نہیں رہے بلکہ حالیہ برسوں میں ان تحریکوں کی فعال حمایت کر رہے ہیں جنہیں اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے قطر پر حماس کو مالی اور سیاسی مدد فراہم کرنے کا الزام لگایا، سعودی عرب کو ایران اور اخوان المسلمون کا حامی قرار دیا اور عمان پر الزام لگایا کہ وہ انصار اللہ کو ایران سے ہتھیاروں کی منتقلی میں مدد کر رہا ہے۔
ان کے خیال میں صیہونی حکومت کے لیے واحد قابل اعتماد معیار کے لحاظ سے خلیج فارس کے ممالک کی فقط دو قسمیں ہیں:ایک وہ جنہوں نے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور دوسرے وہ ممالک جو ابھی تک اس میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔
لیکن رپورٹ کا اہم حصہ وہی ہے جہاں کوہن براہ راست سعودی عرب کے ساتھ نارملائزیشن کا خواب چکنا چور ہونے کا براہ راست اعتراف کرتے ہیں۔