ایران کا خطے کے کسی بھی ملک کو نشانہ بنانے یا ان سے جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا خطے کے کسی بھی ملک کو نشانہ بنانے یا ان سے جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم وہ اڈے جو ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوں گے، انہیں حقِ دفاع کے تحت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سحرنیوز/ایران: ایرانی صدر نے یہ بات پاکستان کے وزیر اعظم *شہباز شریف* کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ مسعود پزشکیان نے رمضان المبارک کے موقع پر پاکستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے تمام مسلم ممالک کے لیے امن اور استحکام کی دعا کی۔
ایرانی صدر نے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران جب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کر رہا تھا تو اسی دوران دوسری مرتبہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملہ کیا گیا۔ ان کے بقول اس حملے میں ایران کے رہبر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سمیت متعدد بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں طلبہ بھی شامل تھے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حملوں کے دوران ایران کے بنیادی ڈھانچے، عوامی مقامات، اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور میناب کے ایک اسکول پر حملے میں بڑی تعداد میں طلبہ جاں بحق ہوئے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی دفاعی پالیسی واضح ہے اور ایران صرف ان اڈوں کو نشانہ بنائے گا جہاں سے اس کی سرزمین پر حملے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری اور بین الاقوامی ادارے اس جنگ اور ایران پر حملوں کے اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ایران کے ساتھ یکجہتی اور امریکہ و اسرائیل کے حملوں کی مذمت پر پاکستان کی حکومت، عوام اور سیاسی و مذہبی شخصیات کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم *شہباز شریف* نے بھی رمضان المبارک کی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس مقدس مہینے کی برکت سے مسلم دنیا میں امن قائم ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور ایران کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے ایران کے رہبر کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے آیت اللہ *سید مجتبی خامنہ ای* کے نئے رہبر کے طور پر انتخاب پر ایرانی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ایران مزید ترقی کرے گا۔
دونوں رہنماؤں نے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel