Feb ۲۳, ۲۰۲۶ ۱۲:۰۲ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتائج سنگین ہوں گے، سابق سعودی عہدیدار

سعودی مشاورتی کونسل کے ایک سابق عہدیدار نے تہران کے خلاف کشیدگی میں اضافے کے نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی جنگ ایک "بڑا اور تباہ کن جوا" ہوگا۔

سحرنیوز/عالم اسلام: سعودی مشاورتی کونسل کے سابق رکن اور سیاسی تجزیہ کار "احمد التویجری" نے مڈل ایسٹ آئی کے ایڈیٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی فوجی تصادم ایک "بڑا اور انتہائی مہنگا جوا" ہوگا۔

انہوں نے تہران کی عسکری توانائيوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران "وینزویلا نہیں" ہے اور اس کے پاس ردعمل کے لیے کئی آپشنز ہیں جنہیں وہ نازک حالات میں استعمال کر سکتا ہے۔

سابق سعودی عہدیدار نے کہا کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اسے بقا کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اپنے ردعمل کو اس مقام تک بڑھا دے گا جہاں " علاقائی وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا، خلیج فارس میں مشکلات پیش آئيں گي  اور آبنائے ہرمز بند ہوجائے ہے۔"

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: Facebook,X,instagram,tiktok,whatsappchannel

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تباہ کن بیلسٹک میزائلوں سے فوجی حملے کی صورت میں تہران صیہونی حکومت کو بھی نشانہ بنائے گا۔

التویجری نے ایران کے ساتھ جنگ ​​کے منظر نامے کو "مکمل طور پر غیر حقیقت پسندانہ اور غیر ذمہ دارانہ " قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اس طرح کی صورتحال کو روکنے کے لیے اپنا تمام سیاسی وزن استعمال کیا ہے۔

ٹیگس